ارکانِ پارلیمنٹ کی گاڑیوں کے شیشے کالے کرانے کی خواہش پوری ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے، کیونکہ وزارتِ داخلہ نے ٹنٹڈ گلاسز پرمٹ پالیسی 2025 میں نئی ترامیم شامل کر دی ہیں۔ نئی ترامیم کے تحت عام شہریوں کے لیے ٹنٹڈ گلاس پرمٹ کی سالانہ فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو یہ سہولت مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے تیار کی گئی ترمیم شدہ پالیسی کے مطابق گاڑیوں کے شیشے کالے کرانے کے پرمٹ کی سالانہ فیس 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تاہم موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو ٹنٹڈ گلاس پرمٹ بلا معاوضہ جاری کیے جائیں گے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں پالیسی کا حصہ بنائی گئی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے بھی ٹنٹڈ گلاس پرمٹ کے حصول کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد اب ہر غیر ملکی کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہوگی بلکہ صرف سفارت کاروں کو ہی ٹنٹڈ گلاس پرمٹ جاری کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ نے اس مقصد کے لیے پالیسی کے مسودے میں بھی تبدیلی کر دی ہے۔ ترمیم شدہ مسودے میں لفظ “غیر ملکی” حذف کرکے اس کی جگہ “سفارت کار” شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ٹنٹڈ گلاس پرمٹ کی سہولت صرف سفارتی عملے تک محدود رہے گی۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق ترمیم شدہ ٹنٹڈ گلاسز پرمٹ پالیسی 2025 کا مسودہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اس پر اپنی رائے اور تجاویز فراہم کر سکیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ تمام اداروں کی حتمی آراء اور تجاویز موصول ہونے کے بعد نئی پالیسی کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کا مؤقف ہے کہ پالیسی میں شامل نئی ترامیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ مجوزہ پالیسی کے نفاذ کے بعد ٹنٹڈ گلاس پرمٹ کے اجرا، اہل افراد اور متعلقہ طریقہ کار سے متعلق نئے قواعد و ضوابط نافذ العمل ہوں گے، جبکہ موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو اس سہولت کے لیے کسی قسم کی سالانہ فیس ادا نہیں کرنا ہوگی۔