غزہ میں جنگ بندی اور تعمیرنو کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے، منیر اکرم

اسلام آباد: پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب منیر اکرم نے غزہ کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کے حملوں کا سلسلہ روکنے اور جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کی کوششیں مزید تیز کرے۔

انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج کی فوری انخلا کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ بے گھر افراد کو امداد فراہم کرنے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے عالمی ادارے اپنے کردار کو مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی موجودہ صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس میں کہا کہ غزہ کی انفراسٹرکچر کی تباہی اور بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر فوری طور پر تعمیراتی کاموں میں تعاون کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ غزہ کے بیشتر علاقے بمباری سے متاثر ہوچکے ہیں اور اب رہائش کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں بچی۔

منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر عمل درآمد کرانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور قطر و مصر کی اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فلسطینی عوام کی سب سے بڑی ضرورت فوری امداد ہے، خاص طور پر بے گھر افراد کے لیے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں مکمل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا انخلا یقینی بنائے اور بے گھر فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں پر بھی گہری تشویش رکھتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس پر فوری طور پر ردعمل دے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے تحفظ اور بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ان کی زندگیوں میں امن اور سکون واپس آ سکے۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ مزید آپریشنز اور پرتشدد کارروائیوں سے گریز کیا جائے تاکہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

منیر اکرم نے اسرائیل پر یہ بھی زور دیا کہ وہ فلاحی تنظیموں کے دفاتر کو بند کرنے کی کوششیں ترک کرے، کیونکہ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (انروا) فلسطینیوں کے لیے امید کی کرن بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی عوام کی زندگیوں میں تبدیلی آ سکے۔

پاکستان نے اس اجلاس میں فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور عالمی برادری سے غزہ اور مغربی کنارے میں فوری طور پر امن قائم کرنے کی اپیل کی۔

editor

Related Articles