کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی ڈرافٹ پر دستخط سے انکار جسکی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے، شیری رحمان

کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی ڈرافٹ پر دستخط سے انکار جسکی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے، شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ملک کو سیاسی انتشار سے بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی گئی، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشتگردی تعاون سے متعلق ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ہر شق پر مستقل مزاجی سے بات کی، اپوزیشن کے خدشات سنے اور اپنی قیادت سے مشاورت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں 4 مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

پیپلز پارٹی کی سینئر مذاکرات کار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران بارہا کہا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کی سینئر قیادت بھی مذاکرات میں شامل ہو، تاہم ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی یا کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکامی کے ذمہ دار سہیل آفریدی، 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے ،وزیر داخلہ

شیری رحمان نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تقریباً ساڑھے 8 بجے تک مذاکرات میں بیشتر معاملات طے پاچکے تھے، تاہم ساڑھے 8 بجے کے بعد پشاور سے صوبائی حکومت کی جانب سے نئی شرائط پیش کی جانے لگیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کا عمل جاری رکھتے ہوئے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کی کہ سیاسی کشیدگی کو کم کیا جائے۔ شیری رحمان کے مطابق ان کی 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

شیری رحمان نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کی صبح تقریباً 3 بجے تک جاری رہے اور حکومت نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے، تاہم دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس نہ آنے کے باعث بالآخر مذاکراتی عمل ختم ہوگیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات طویل نشستوں کے باوجود کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق فریقین کے درمیان خیبر پختونخوا میں انسداد دہشتگردی کے اقدامات اور دیگر سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔

Related Articles