دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی کہ جھوٹے دعوے خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے 8 بنیادی سوالات

دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی کہ جھوٹے دعوے خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے  8 بنیادی سوالات

تحریک انصاف کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف پالیسی نہ بنانے دینے کے دعوے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے 8 بنیادی سوالات اٹھا دیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں حکومت کرتی رہی۔ وفاق میں بھی اسے اقتدار ملا۔ پھر اسے دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟

وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس بلانے سے تحریک انصاف کو کس پالیسی نے روکے رکھا؟

دہشتگردی پر مؤقف

خواجہ آصف نے پوچھا کہ دہشتگرد کو دہشتگرد کہنا اور افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کی مذمت کرنے کے لیے کس پالیسی کی ضرورت ہے؟

 یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی او رسہولت کاری کے سوا کچھ نہیں کیا ،خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے بھی کسی خصوصی پالیسی کی ضرورت نہیں۔

وزیر دفاع نے حالیہ مبینہ ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ افغان سمت سے کوہاٹ کے علاقے میں حملوں کی صوبائی حکومت نے کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟

انہوں نے پوچھا کہ اس معاملے پر آواز اٹھانے سے کون سی پالیسی روک رہی تھی؟

افغان سرزمین کا معاملہ

خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

ان کے مطابق دراندازی اور دہشتگردوں کی معاونت کے الزامات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ تحریک انصاف نے افغان حکومت کا نام لے کر کتنی مرتبہ ان خلاف ورزیوں کی مذمت کی؟

وزیر دفاع نے کہا کہ اس کے لیے بھی کسی الگ پالیسی کی ضرورت نہیں تھی۔

  بھتہ خوری، اسمگلنگ

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ دہشتگردی کے لیے معاون سمجھی جانے والی ان سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے گزشتہ 13 سال میں صوبائی حکومت نے کیا عملی اقدامات کیے؟

انہوں نے تحریک انصاف سے کہا کہ اگر ایسے اقدامات کیے گئے ہیں تو ان کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔

سکیورٹی فورسز اور عوام

وزیر دفاع نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت سے بھی سوال کیا۔

انہوں نے پوچھا کہ دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فورسز کے جوانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تحریک انصاف کی قیادت کتنی مرتبہ ان کی پوسٹوں پر گئی؟

 یہ بھی پڑھیں :9 مئی بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید کا جوائنٹ وینچر تھا، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ صوبے کے یتیم بچوں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کتنی مرتبہ عملی طور پر ان کے درمیان گئے؟

خوارج کا نام کیوں نہیں؟

خواجہ آصف نے تحریک انصاف کے ریاستی بیانیے سے متعلق مؤقف پر بھی سوال اٹھایا۔

انہوں نے پوچھا کہ دہشتگرد گروہوں کو خوارج کہنے اور ان کی واضح مذمت کرنے سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟

وزیر دفاع نے سوال کیا کہ خوارج کی مذمت کرنے اور ان کے خلاف واضح مؤقف اپنانے کے لیے آخر کون سی پالیسی درکار ہے؟

کرپشن کے الزامات

خواجہ آصف نے  تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں طویل حکمرانی پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 13 سالہ دور حکومت میں کرپشن کو فروغ ملا اور صوبائی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے قومی اور صوبائی ارکان ایک دوسرے پر کروڑوں اور اربوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کے میڈیا میں دیے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں بیرون ملک سے آنے والی رقم کے پارٹی تنظیم میں مبینہ استعمال کا الزام لگایا گیا تھا۔

خواجہ آصف کے مطابق تحریک انصاف کے دہشتگردی سے متعلق موجودہ مؤقف پر ان سوالات کے جوابات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پالیسی نہ بنانے دینے کا دعویٰ زمینی حقائق کے کئی سوالات کا جواب نہیں دیتا۔

editor

Related Articles