دعوے لاکھوں کے، مظاہرین صرف 1500،؟ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کرک پہنچنے سے پہلے ہی فلاپ ہو گیا

دعوے لاکھوں کے، مظاہرین صرف 1500،؟ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کرک پہنچنے سے پہلے ہی فلاپ ہو گیا

لاکھوں افراد کے دعووں کے برعکس پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں صرف 1500 تک افراد موجود ،عوام نے بری طرح مسترد کر دیا 

ذرائع کے مطابق اس وقت قافلے میں تقریباً 1500 افراد موجود ہیں۔ متعدد افراد کے واپس جانے سے قافلے کی تعداد مزید کم ہونے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرک پہنچنے تک موجودہ قافلے میں تقریباً 2500 افراد شامل ہونے کا امکان ہے۔ حتمی صورتحال کرک سے مزید افراد کی شمولیت کے بعد واضح ہوگی۔

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ گنڈی چوک لکی مروت سے شروع کیا ہے۔ پارٹی کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق قافلہ کرک کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ ہوگا۔

قافلے کی تعداد

آزاد ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ میں موجود افراد کی تعداد تقریباً 1500 بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد شرکا قافلے سے واپس بھی جا چکے ہیں۔

یہ صورتحال پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے کیے جانے والے بڑے عوامی دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

 کارکنوں کی واپسی

دوسری جانب بعض کارکنوں سے ہونے والی گفتگو کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے قافلے کی واپسی کے بعد تحریک انصاف کے مختلف حلقوں میں اختلافات زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الگ قافلہ بھی لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ گنڈاپور نے کارکنوں کو پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

اگلا مرحلہ

پی ٹی آئی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق کرک کے افراد کو 5 اکتوبر کو قافلے میں شامل ہونا ہے۔

اس کے بعد قافلہ کوہاٹ کی جانب روانہ ہوگا۔ 6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے افراد کی شمولیت کا منصوبہ ہے۔

اس کے بعد مارچ پشاور اور چارسدہ کی جانب بڑھے گا۔ 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلوں کے خیرآباد میں جمع ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

editor

Related Articles