جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں سیاسی اجتماع کے دوران مبینہ طور پر ایک مطلوب خارجی کی موجودگی کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکن گانڈی چوک لکی مروت روانگی کے لیے مکین میں جمع ہو رہے تھے۔ اسی دوران سکیورٹی اداروں کو ہجوم میں مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاعات ملیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشکوک افراد کی شناخت کے لیے دستیاب شواہد اور تصاویر کا جائزہ لیا گیا۔ اس عمل کے بعد ایک شخص کی شناخت سے متعلق اہم معلومات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مبینہ شناخت
ذرائع کے مطابق تصویر میں ہتھیار کے ساتھ نظر آنے والے شخص کی شناخت شہیداللہ عرف غازی کے نام سے کی گئی ہے۔ اس شخص کو گل بہادر گروپ سے منسلک مبینہ خارجی قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہیداللہ عرف غازی کا تعلق مکین سے ہے۔ اسے مختلف دہشت گرد حملوں میں مبینہ طور پر ملوث بتایا جا رہا ہے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے شناخت اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے سے متعلق معلومات کو ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
سرچ آپریشن جاری
ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص سکیورٹی اداروں کو مطلوب ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری رہنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مشکوک افراد کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کے بعد نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ ہجوم میں موجود دیگر افراد کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ یا اجتماع کی آڑ میں مبینہ طور پر چھپنے والے دیگر دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سکیورٹی خدشات
جنوبی وزیرستان طویل عرصے سے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث حساس علاقہ رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی اجتماع میں مشکوک افراد کی موجودگی سکیورٹی اداروں کے لیے اہم معاملہ بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں مشکوک افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ روابط کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔
اگر مذکورہ شناخت اور دیگر دعوے سرکاری تحقیقات میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ سیاسی اجتماعات کے سکیورٹی پہلو کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔


