پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے کسی رہنما کی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے تو ریاست کو مجبوری میں اپنا کام کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے اور شاید ان کے خیال میں یہی تصادم ان کی سیاست کو سوٹ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دو جماعتوں کے درمیان انتہائی تناؤ پایا جاتا ہے، ایسے حالات میں مذاکرات کو راستہ دینا چاہیے۔
قمر زمان کائرہ کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے خاصی نرمی کا مظاہرہ کیا، تاہم پی ٹی آئی کے وہ رہنما جو براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں تھے، ان کی وجہ سے ڈیڈلاک پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج آئینی و قانونی اختیارات ہیں، تاہم یہ ناپسندیدہ اقدامات ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی لانگ مارچ کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ وزیراعلیٰ کو ان سے کچھ بڑھ کر کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حالات ٹھہراؤ کی طرف جاتے نظر نہیں آ رہے اور اگر خدانخواستہ کوئی تصادم ہوا تو ملک کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے 2 صوبوں میں دہشت گردی کے باعث پہلے ہی صورتحال انتہائی مشکل ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔