سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے حوالے سے ایک سنہری موقع گنوا دیا ہے اور سہیل آفریدی کے رات گئے بیان کے بعد مزید مذاکرات کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ مذاکرات تحریک انصاف کے لیے آخری سیاسی راستہ تھے، تاہم ان کے مطابق پارٹی کے گزشتہ کئی برس کے سیاسی اقدامات نے اسے مسلسل کمزور سیاسی پوزیشن کی طرف دھکیلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایک دن میں موجودہ صورتحال تک نہیں پہنچی بلکہ ہر سیاسی عمل اسے بتدریج اس مقام تک لے کر آیا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے معاملے میں بھی راتوں رات یوٹرن کی توقع نہیں تھی اور پارٹی نے ایک اور غلط فیصلہ کیا۔
عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
مزمل سہروردی نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں ہو رہے تھے بلکہ تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا،انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی مذاکرات کے مطالبات میں شامل نہیں تھی، تاہم تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد عمران خان باہر آ جائیں گے۔
اصل تنازع دہشت گردی
مزمل سہروردی کے مطابق مذاکرات میں اصل معاملہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر آکر پھنس گیا۔ انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بدانتظامی اور خراب طرز حکمرانی کے خاتمے، دہشت گردی کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے اور رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب اشارہ تھا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کر رہی، دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔
مزمل سہروردی نے سہیل آفریدی کے رات گئے کیے گئے ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس بیان میں سکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور دہشت گرد تنظیموں کے مؤقف سے مماثلت نظر آتی ہے،انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک یہی بنیادی تنازع ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی کے ساتھ کس حد تک کھڑی ہے۔
لانگ مارچ سے حکومت نہیں گرے گی
مزمل سہروردی نے کہا کہ ماضی میں عمران خان کی جانب سے کیے گئے لانگ مارچ بھی حکومت کو گھر نہیں بھیج سکے، اس لیے یہ خوف نہیں تھا کہ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ حکومت ختم کردے گا،انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ لانگ مارچ نہیں بلکہ دہشت گردی کا معاملہ ہے، جس پر ریاست اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
افغانستان اور ٹی ٹی پی
مزمل سہروردی نے کہا کہ 2022 تک خیبر پختونخوا میں امن کی ایک وجہ یہ تھی کہ طالبان اور ٹی ٹی پی کی توجہ افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف جنگ پر مرکوز تھی،ان کے مطابق افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے متعدد افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں سابق حکومت کی جانب سے ان عناصر کو دوبارہ آباد کرنے کے فیصلے کے اثرات اب ملک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی پر الزامات
مزمل سہروردی نے سہیل آفریدی کے سیاسی حلقے میں منشیات اور ٹی ٹی پی کے مبینہ رابطے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق یہ معاملہ دہشت گردی اور جرائم کے تعلق سے جڑا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں مزید رعایت کی گنجائش نہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کا مستقبل
مزمل سہروردی نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے تو ان کے خیال میں انہیں عہدے سے جانا ہوگا،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات پر بھی بات ہوسکتی ہے، جبکہ مستقبل میں وفاق کو دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں انتظامی اختیارات دینے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پر غور کیا جاسکتا ہے۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ ان کے خیال میں لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے اندر ہی صوبائی پولیس کی جانب سے روکا جاسکتا ہے، جبکہ اگر مارچ پنجاب کی جانب بڑھتا ہے تو ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر بات آگے بڑھ سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ ہر گزرتا دن سہیل آفریدی کے اقتدار کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔
مذاکرات کا دروازہ بند
مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے مزمل سہروردی نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک ’’گولڈن اپارچونٹی‘‘ گنوا دی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کے رات ڈھائی بجے کے ٹویٹ کے بعد انہیں مزید مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا،انہوں نے کہا کہ اب سہیل آفریدی احتجاج کریں گے اور ریاست اپنی کارروائی کرے گی۔
ریاست کا سخت مؤقف
مزمل سہروردی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ریاست کا مؤقف مضبوط ہے اور وہ اس وقت کسی سمجھوتے کے موڈ میں نظر نہیں آتی،انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے تو وہ قانونی عمل کے مطابق ہوگی۔
عمران خان یا سہیل آفریدی؟
مزمل سہروردی نے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ معاملہ صرف سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کا نہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی بقا کا مسئلہ ہےانہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو وہ تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومتوں سے جوڑتے ہیں اور ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پالیسی کا فرق بھی سیاسی طور پر اہم سوال بن چکا ہے،مزمل سہروردی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا ایک اہم موقع گنوا دیا ہے اور اب ریاست کی جانب سے اگلے اقدامات کا امکان ہے۔