پی ٹی آئی میں گروپس بنے ہوئے ہیں جو ایک ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور کمپین چلاتے ہیں، علی امین گنڈا پور

پی ٹی آئی میں گروپس بنے ہوئے ہیں جو ایک ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور کمپین چلاتے ہیں، علی امین گنڈا پور

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی بہنوں سے درخواست کی تھی کہ عمران خان کو باہر آنے دیا جائے، کیونکہ ان کے بقول عمران خان باہر آ کر سوشل میڈیا سمیت مختلف عناصر کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات عمران خان کی شرائط پر ہی ہو رہے تھے اور حکومت کئی نکات پر آمادگی بھی ظاہر کر چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اکتوبر کے بعد باقاعدہ مذاکرات شروع ہوئے اور اس حوالے سے ٹی او آرز بھی تیار کیے جا چکے تھے، تاہم پارٹی کے اندر موجود بعض گروپس ایک دوسرے پر تنقید کرتے اور بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہے۔

علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے  کچھ  گروپس  منظم انداز میں مہم چلاتے اور گالم گلوچ کے ذریعے ماحول خراب کرتے ہیں، جس سے سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ان کی ملاقاتیں بہت کم ہوئیں اور اکثر ایسے افراد ان سے ملتے تھے جو انہیں ایسی معلومات دیتے تھے جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی مکمل طور پر ناکام، قیادت اور ارکان سب ذمہ دار،علی امین گنڈا پور کا اعتراف

انہوں نے مزید کہا کہ بعض مواقع پر حکومت کی ضرورت کے تحت بیرسٹر محمد علی سیف کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، خاص طور پر سینیٹ انتخابات اور بجٹ جیسے معاملات پر، تاہم سیاسی حکمت عملی یا پارٹی امور کے لیے ملاقاتیں آسانی سے ممکن نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کون ہوتا ہے مجھ سے حساب لینے والا میں نے عمران خان سے اپنی وفاداری ثابت کی ہے ۔

علی امین گنڈاپور کے مطابق مذاکرات کے عمل میں محسن نقوی نے بھی کوشش کی کہ عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت سب پر واضح ہے اور اگر وہ رہا نہ ہو سکے تو اس کی ذمہ داری ان تمام افراد پر عائد ہوتی ہے جنہیں ذمہ داریاں دی گئی تھیں لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے بعض فیصلوں پر عمل نہ کرنے سے بھی مسائل پیدا ہوئے، خاص طور پر سنگجانی میں رکنے کی ہدایت پر عمل نہ کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔ ان کے مطابق پانچ اکتوبر کو جب کارکن ڈی چوک پہنچے تو حکومت پر دباؤ بڑھ گیا تھا اور مذاکرات کی پیشکش سامنے آئی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان سے ان کی ملاقات لان میں ہوئی کیونکہ انہوں نے کمرے میں ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مجھ سے کوئی حساب کتاب نہیں مانگ سکتا سوائے عمران خان کے ،میں صرف خان کو جوابدہ ہوں ،سلمان اکرم راجہ نے میرا بیان سنا ہی نہیں تو وہ کیسے اعتراض کرسکتے ہیں ،مجھے کسی سے گلہ نہیں نہ کسی سے سوال کرنا چاہتا ہوں ۔

editor

Related Articles