امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے لیے یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو معاملات حل کرنے کا شاید آخری موقع ملا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی جلد بحال ہو جائے گی۔
واشنگٹن میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی درخواست پر بات چیت کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایران کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی توقع ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد مکمل طور پر کھل جائے گی اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے عالمی توانائی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی بڑی کمپنیاں غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بحالی کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا جس سے عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔
برطانیہ سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے ساتھ مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی دوسرے ملک کو یہ نہیں بتا سکتے کہ اسے اپنے داخلی معاملات کس طرح چلانے چاہییں۔
انہوں نے یورپ میں امیگریشن کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ شمالی سمندر میں موجود تیل کے ذخائر سے مکمل فائدہ اٹھائے تو اسے طویل عرصے تک سستی توانائی میسر آ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے خود ان سے رابطہ کر کے حملہ نہ کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم ایران ماضی میں اس نوعیت کے امریکی دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے اس لیے اس بیان پر تہران کی جانب سے کسی نئے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔