بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سہولت کار اور سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والی مارکیٹنگ ایجنسی کو قانون نافد کرنے والے اداروں نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
سینئر صحافی وسیم بادامی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران را کے سہولت کار نے پاکستان مخالف سوشل میڈیا مہم کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف جھوٹے اور گمراہ کن مواد کی تشہیر کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، جبکہ اس مہم کے مبینہ روابط کالعدم ایکشن کمیٹی سے بھی ملتے ہیں۔
سہولت کار کے مطابق رواں سال مارچ میں اس کی ویب سائٹ پر ایک آرڈر موصول ہوا جس میں مختلف آن لائن سروسز حاصل کی گئیں۔ آرڈر کا مقصد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق پاکستان مخالف جھوٹے، من گھڑت ویڈیوز اور مواد کو سوشل میڈیا پر فروغ دینا تھا، جس کے لیے لاکھوں روپے ادا کیے گئے۔
سینئر صحافی وسیم بادامی کو دیے گئے انٹرویو میں مبینہ سہولت کار نے دعویٰ کیا کہ مسلسل پاکستان مخالف مواد کی تشہیر کے چند روز بعد پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے اس سے رابطہ کیا اور تحقیقات کے دوران تمام معلومات حاصل کیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ مواد بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران فراہم کر رہے تھے، جبکہ اس کی تشہیر پر بھاری رقوم خرچ کی جا رہی تھیں۔
سہولت کار نے بتایا کہ جب کوئی آرڈر موصول ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر کلائنٹ ڈیزائن یا مواد فراہم کرے تو اسے براہ راست استعمال کرنے کے بجائے سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے، جس کے بعد آرڈر کے مطابق ویوز، لائکس، کمنٹس، ری ایکشنز یا دیگر سوشل میڈیا سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے مطابق کلائنٹ پہلے اپنی ضرورت کے مطابق پیکج کا انتخاب کرتا ہے، جس میں ویوز، لائکس، کمنٹس اور دیگر خدمات شامل ہوتی ہیں، اور پھر اسی کے مطابق سروس فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر معاملات میں یہ خدمات پاکستان میں موجود مختلف ایجنٹس یا تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں، جو پس منظر میں کام کرتے ہیں اور آرڈر مکمل ہونے کے بعد مطلوبہ نتائج فراہم کرتے ہیں۔
ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں سہولت کار نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے اسٹرائپ (Stripe) نامی تھرڈ پارٹی پیمنٹ گیٹ وے استعمال کیا جاتا ہے، جہاں کلائنٹ کی ادائیگی پہلے وصول ہوتی ہے اور بعد ازاں منسلک بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس کے مطابق اسٹرائپ مختلف ممالک میں ورچوئل بینکنگ اور بین الاقوامی ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم وصول کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف تھرڈ پارٹی ویب سائٹس کے ذریعے صارفین انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے مختلف سروسز خریدتے ہیں۔ آرڈر موصول ہونے کے بعد اس کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ خدمات درست طریقے سے فراہم کی جا سکیں۔
سہولت کار کے مطابق ان کی کمپنی ویب سائٹس تیار کرنے، آن لائن سروسز فراہم کرنے اور کاروبار کی ضروریات کے مطابق خدمات اور قیمتوں کا تعین کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے میں مقابلہ بہت زیادہ ہے، اسی لیے ویب سائٹ آپٹیمائزیشن (SEO)، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پروموشنل مہمات کے ذریعے ویب سائٹس کو گوگل کے نمایاں نتائج میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر گاہک خدمات سے مطمئن ہو تو وہ اچھی ریٹنگ دیتا ہے، جس سے پروفائل کی ساکھ بہتر ہوتی ہے اور مستقبل میں مزید گاہک حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔