سعودی عرب نے جنگلی حیات کے تحفظ کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ایک صدی سے زائد عرصے بعد اپنی سرزمین پر پہلی بار اونیگر (جنگلی گدھے) کے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نایاب بچہ سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو میں جون 2025 میں پیدا ہوا۔ یہ پیدائش عربین ری وائلڈنگ پروگرام کے تحت عمل میں آئی، جس کا مقصد ناپید ہوتی جنگلی انواع کو ان کے قدرتی ماحول میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نر اونیگر نے اپنی زندگی کا پہلا اور انتہائی حساس سال کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جسے ماہرین اس منصوبے کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ریزرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما میں مزید دو اونیگر بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جبکہ افزائشِ نسل کے پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے تاکہ انواع کے جینیاتی تنوع میں اضافہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اونیگر دنیا کے انتہائی نایاب اور خطرے سے دوچار جانوروں میں شمار ہوتا ہے اور اس وقت جنگلات میں اس کی تعداد 600 سے بھی کم رہ گئی ہے۔
تحفظِ ماحول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیاب پیدائش سے نہ صرف اس نایاب نسل کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں حیاتیاتی تنوع کے فروغ کے لیے بھی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو انتظامیہ کے مطابق یہ کامیابی سعودی عرب کے وسیع تر ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبوں کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد نایاب جانوروں کی نسلوں کو محفوظ بنانا اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بحال کرنا ہے۔