صحافی بتول راجپوت نے فضل الرحمن کی حالیہ بیان بازی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان سے شہداء کے خاندانوں اور عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس لیے انہیں معافی مانگنی چاہیے۔
بتول راجپوت نے کہا کہ فضل الرحمن کی حالیہ بیان بازی ان کی سیاسی مایوسی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنے کے بعد اب خود کو سسٹم سے باہر اور غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فضل الرحمن سے صدر مملکت بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوا، اور اب وہ اور ان کا خاندان ماضی کی طرح اہم عہدے برقرار نہیں رکھ پا رہے، جس کی وجہ سے وہ دوبارہ سیاسی طور پر متعلق رہنے کے لیے سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔
بتول راجپوت نے کہا کہ فضل الرحمن نے فوج کے جوانوں کی تنخواہوں اور ٹیکسوں کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے، وہ انتہائی غیر حساس اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، جس سے شہداء کے خاندانوں اور عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان نے بھی 9 مئی کر دیا؟ تجزیہ کار مزمل سہروردی اور رضا رومی کا اہم تبصرہ سامنے آ گیا
انہوں نے مزید کہا کہ فضل الرحمن ہمیشہ سے اہم آئینی ترامیم اور سیاسی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں اور دہائیوں تک کشمیر کمیٹی جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے، تاہم وہ کشمیر یا بلوچستان جیسے بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے مطابق اب سسٹم سے باہر ہونے کے بعد ان کی شدید تنقید محض اس لیے ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔
کیا مولانافضل ارحمان الطاف حسین یا عمران خان بننا چاہتے ہیں؟
مولانا فضل الرحمن کی حالیہ بیان بازی ان کی سیاسی مایوسی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنے کے بعد اب خود کو سسٹم سے باہر اور غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔ ان سے صدر مملکت بنانے کا وعدہ کیا گیا… pic.twitter.com/1TdkTrE5pZ
— Batool Rajput (@batulrajpoot) July 18, 2026

