سینئر صحافی ابصار عالم نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی میں اسلحہ بردار لوگ موجود ہیں جو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے تیار ہیں۔
ابصار عالم کے مطابق سردار امان اور خواجہ مہران غیر ملکی ایجنڈے پر ریاست مخالف بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایجنڈا عوامی حقوق نہیں بلکہ ریاست کے اندر بغاوت اور انتشار پھیلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آزاد کشمیر جانے والی حکومتی مذاکراتی ٹیم کو یقین تھا کہ یہ عوامی حقوق کی تحریک ہے، تاہم چند شرپسند عناصر نے اس تحریک کو یرغمال بنا لیا۔
ابصار عالم کا مزید کہنا تھا کہ راولاکوٹ دھرنے سے واپس آنے والے افراد نے بتایا کہ وہاں اسلحہ بردار لوگ موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ اسلحہ بردار مظاہرین نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سردار امان اور خواجہ مہران عام مظاہرین کو اکسانے، اسلحہ استعمال کرنے اور پاکستان سے علیحدگی کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔
ابصار عالم کے مطابق سردار امان اور خواجہ مہران پر فوج اور سیکیورٹی فورسز میں موجود کشمیری اہلکاروں کو بغاوت پر مائل کرنے کے باعث غداری کے مقدمات درج ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے پیشرو شوکت نواز میر پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ سردار عمر نذیر اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، تاہم ان کے بقول سردار امان اور خواجہ مہران خطے میں امن نہیں چاہتے۔