سینئر تجزیہ کار اور صحافی مزمل سہروردی نے اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی و تجزیہ کار رضا رومی کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات اور مقتدر حلقوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران مزمل سہروردی نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ مولانا نے بھی “9 مئی” جیسا رویہ اختیار کیا ہے، تو کیا ان کے ساتھ بھی وہی طرزِ عمل اپنایا جانا چاہیے جو 9 مئی کے ملزمان کے ساتھ اختیار کیا گیا؟
اس پر رضا رومی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا معاملہ 9 مئی کے واقعات سے بالکل مختلف ہے اور دونوں کا موازنہ درست نہیں۔ ان کے مطابق مولانا کافی عرصے سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت اور سابقہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں عمران خان کے خلاف بھرپور انداز میں استعمال کیا، تاہم اقتدار کی تقسیم کے مرحلے پر انہیں نظرانداز کر دیا گیا، جس کے باعث ان میں سیاسی ناراضی اور غصہ پایا جاتا ہے۔
رضا رومی نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما مولانا غفور حیدری کی جانب سے جی ایچ کیو کے باہر دھرنے کی دھمکی جیسے بیانات دراصل سیاسی دباؤ بڑھانے اور مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فوجی قیادت اس نوعیت کے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرتی اور اس کا طرزِ عمل ماضی کی قیادت سے مختلف ہے۔
گفتگو کے دوران دونوں تجزیہ کاروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس سے زیادہ سخت بیانات دے چکے ہیں، اس لیے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانیے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کا امکان نہیں۔
انہوں نے رائے دی کہ موجودہ سیاسی کشیدگی مستقل نوعیت کی نہیں بلکہ وقتی ہے اور امکان ہے کہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے ٹھنڈا ہو جائے گا۔