معاہدے کی خلاف ورزیوں نے ثابت کر دیا ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، ایرانی سپریم لیڈر

معاہدے کی خلاف ورزیوں نے ثابت کر دیا ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، ایرانی سپریم لیڈر

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور بے معنی ہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنےبیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنا حقیقی چہرہ ظاہر کر دیا ہے،انہوں نے الزام عائد کیا کہ جرائم اور وعدہ خلافیوں کا یہ سلسلہ امریکا کی مبینہ بے ایمانی، غیر معقول رویے، ناقابلِ اعتماد ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ثبوت ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ جبر، آمرانہ طرز عمل اور ظلم امریکی نظریے اور پالیسی کا حصہ ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزیوں نے ایک بنیادی حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط قابلِ اعتبار نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ مفاہمتی یاداشت ناکام بنانے کی سازش کس نہ کی ؟ جے ڈی وینس کا بڑا انکشاف

مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ امریکا کشیدگی اور تنازع کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے لیے ایسے اسباق تیار کر رکھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو ہر سطح پر برقرار رکھنا سب سے اہم ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور حکام کو باہمی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے ملک کی عزت، وقار اور خودمختاری کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ عوام کو اپنے حکام اور قیادت پر اعتماد برقرار رکھنا چاہیے، انہوں نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن جنگوں کو فروغ دینا چاہتا ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا،مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ غرور، خود پسندی اور سخت رویہ امریکی طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔

editor

Related Articles