بھارت کے سینئر صحافی ہیمنت اتری نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک کے ہونہار سائنسدان نہ صرف اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں بلکہ بیرونِ ملک منتقل ہونے پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
ہیمنت اتری نے بھارت کے مختلف اہم منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرنے والے تین سائنسدانوں کے مستعفی ہونے کی وجوہات اور ان کے ممکنہ اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سائنسدان معمولی وجوہات کی بنا پر اپنی تحقیق نہیں چھوڑتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سائنسدان کے لیے اس کی تحقیق محض ایک منصوبہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے اپنی برسوں کی محنت اور لگن کا حاصل سمجھتا ہے، اسی لیے کسی تحقیق یا منصوبے سے علیحدگی اختیار کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث سائنسدانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں بعض سائنسدان اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کے ساتھ ساتھ ملک چھوڑ کر بھی جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی ملک کی سائنسی ترقی، تحقیق اور جدت کا انحصار قابل سائنسدانوں اور محققین پر ہوتا ہے، جبکہ تجربہ کار افرادی قوت کا ملک سے باہر جانا تحقیق، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے سائنسی منصوبوں پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔