کشمیری عوام کا پاکستان سے لازوال رشتہ ، دنیا بھر میں ’یومِ الحاقِ پاکستان‘ عزم و استقلال کے ساتھ منایا جا رہا ہے، صدر وزیراعظم کا خصوصی پیغام
Home - اہم خبریں - کشمیری عوام کا پاکستان سے لازوال رشتہ ، دنیا بھر میں ’یومِ الحاقِ پاکستان‘ عزم و استقلال کے ساتھ منایا جا رہا ہے، صدر وزیراعظم کا خصوصی پیغام
دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 19 جولائی کو ‘یومِ الحاقِ پاکستان’ منا رہے ہیں، جس کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حریت رہنماؤں اور شہدا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
تاریخی قرارداد اور پاکستانی قیادت کے پیغامات
آج سے 79 برس قبل، 19 جولائی 1947 کو آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں ایک تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی، جس میں قیامِ پاکستان سے قبل ہی کشمیری قیادت نے متفقہ طور پر ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔ یہ دن کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ یہ تاریخی دن کشمیری عوام کی امنگوں اور پاکستان سے ان کے گہرے تعلق کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان اور جموں کشمیر کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتے انتہائی مضبوط اور دیرینہ ہیں۔
پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر توجہ دے اور اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کا مؤقف
وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جموں کشمیر کا تنازع اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کا احترام ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا خراجِ تحسین
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے آزادی کی شمع کو روشن رکھنے والے تمام کشمیری شہدا اور حریت رہنماؤں کو سلام پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ 19 جولائی 1947 کی قرارداد کشمیریوں کی اجتماعی امنگوں کی سچی عکاس اور ان کے غیرمتزلزل عزم کی مظہر ہے۔
پاکستان اور کشمیر کے رشتے مشترکہ تاریخ، عقیدے اور جغرافیے کے مضبوط بندھن میں بندھے ہیں جنہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔
پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور بھارتی مظالم کے خلاف ان کے صبر، استقامت اور بے مثال جرات کو سلام کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں مستقل امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا لازم ہے۔
19 جولائی 1947 کو سری نگر میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے گھر پر مسلم کانفرنس کا تاریخی اجلاس ہوا تھا، جہاں برصغیر کی تقسیم کے اصولوں کے تحت کشمیر کا مستقبل پاکستان سے جوڑنے کی قرارداد منظور کی گئی۔
اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصبانہ قبضے اور بدترین مظالم کے باوجود کشمیری ہر سال یہ دن منا کر دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اس دن کی اہمیت اور کشمیریوں کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
یومِ الحاق کی سفارتی اہمیت
19 جولائی کا دن صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ کشمیر پر پاکستان کے دعوے کی مضبوط ترین قانونی اور سیاسی بنیاد ہے۔
تقسیمِ ہند کا ادھورا ایجنڈا
یہ دن ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کا پاکستان سے الحاق کشمیریوں کا اپنا جمہوری اور عوامی فیصلہ تھا، جسے بھارت نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر سبوتاژ کیا۔
سفارتی محاذ پر جمود
صدر اور وزیرِ اعظم کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا اعادہ خوش آئند ہے، تاہم موجودہ عالمی منظرنامے میں جہاں بڑی طاقتیں اپنے معاشی مفادات کے باعث بھارت پر دباؤ ڈالنے سے گریزاں ہیں، پاکستان کو اپنی کشمیر ڈپلومیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ وادی کی صورتحال
محسن نقوی کا کشمیریوں کے صبر اور جرات کو سلام پیش کرنا وادی میں جاری اس عزم کی عکاسی ہے جو بدترین فوجی لاک ڈاؤن اور آبادیاتی تناسب کی تبدیلی (ڈومیسائل قوانین میں ترمیم) کی بھارتی کوششوں کے باوجود کمزور نہیں ہوا۔ پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کشمیریوں کے حوصلے بلند رکھنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔