بھارت کا مجرمانہ چہرہ پھر بے نقاب، امریکی میں بین الاقوامی سطح پر مطلوب بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل گرفتار

بھارت کا مجرمانہ چہرہ پھر بے نقاب، امریکی میں بین الاقوامی سطح پر مطلوب بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل گرفتار

امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی اور بارڈر پیٹرول نے کینیڈا کی سرحد کے قریب ورمونٹ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے بھارتی پنجاب کے منظم جرائم سے وابستہ انتہائی مطلوب بین الاقوامی گینگسٹر 26 سالہ نتیش کوشل عرف ’لالا‘ کو گرفتار کر لیا ہے۔

بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ‘آپریشن ہارڈ بال’ کے تحت ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایف بی آئی کی ‘موسٹ وانٹڈ’ فہرست میں شامل ہونے کے چند ہی دن بعد بھارتی شہری نتیش کوشل کو ورمونٹ کے قصبے البرگ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سرحد پر تعاقب اور شناخت کا ڈرامہ

وفاقی عدالت کی دستاویزات کے مطابق یہ گرفتاری امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر رات کے وقت پیش آنے والے ایک سنسنی خیز واقعے کے بعد عمل میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈین وزیراعلیٰ کا حکومت سے بھارتی بشنوئی گینگ کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

کینیڈین پولیس نے سرحد کے قریب ایک لاوارث گاڑی دیکھنے کے بعد ایک مشکوک شخص کو پیدل جاتے ہوئے پایا۔ کچھ گھنٹوں بعد، ورمونٹ کے ایک مقامی شہری نے اپنے سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں اس شخص کو گاڑیوں میں جھانکتے اور ایک گودام میں داخل ہوتے دیکھا۔

جب یو ایس بارڈر پیٹرول کے ایجنٹوں نے اسے روکا، تو اس نے نیو جرسی کا ایک جعلی ڈرائیونگ لائسنس دکھا کر بچنے کی کوشش کی۔ فنگر پرنٹ اسکینز نے فوری طور پر اس کی اصل شناخت بے نقاب کر دی، جس کے بعد اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔

وفاقی استغاثہ نے فرار کے شدید خطرے کے پیشِ نظر اسے بغیر ضمانت حراست میں رکھنے کی استدعا کی ہے۔

عالمی جرائم کا سنڈیکیٹ اور سنگین الزامات

تحقیقات کاروں کے مطابق  کوشل ‘جگو بھگوان پوریا آرگنائزڈ کرائم گروپ’ کا ایک اہم کارندہ ہے۔ بھارت کی ریاست پنجاب سے شروع ہونے والے اس سنڈیکیٹ کے دنیا بھر میں تقریباً 1,000 کارندے سرگرم ہیں، جن میں سے 100 سے زائد صرف امریکا میں موجود ہیں۔

یہ گینگ سنگین جرائم کے ایک وسیع نیٹ ورک میں ملوث ہے، جس میں شامل ہیں، قتل اور اقدامِ قتل کی وارداتیں، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ، بھتہ خوری، منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ، بھارت میں کرپٹ پولیس اہلکاروں کے ذریعے بھتہ خوری کے منصوبے اور حریفوں کو نشانہ بنانا۔

مزید پڑھیں:امریکا میں بھارت کے خلاف سکھوں کا بڑا احتجاجی مظاہرہ، بھارتی حکومت کا آڑے ہاتھوں لے لیا

کوشل 2022 میں یوما، اریزونا کے راستے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوا تھا اور مختلف ریاستوں میں اسلحہ و منشیات کے جرائم میں ملوث رہا۔

اسے لاس اینجلس، کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت سے ریکٹیئر انفلوئنسڈ اینڈ کرپٹ آرگنائزیشنز کے تحت سازش، اغوا اور تشدد کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر اسے کم از کم 10 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

’آپریشن ہارڈ بال‘ اور ہندوستانی گینگز کا گٹھ جوڑ

’آپریشن ہارڈ بال‘ ایک وسیع، کثیر القومی آپریشن ہے جس کا مقصد امریکا، کینیڈا اور یورپ میں سرگرم پنجاب (بھارت) سے جڑے منظم جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

اس آپریشن کے تحت 3 مختلف بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں جگو بھگوان پوریا گینگ کے علاوہ بدنام زمانہ ‘لارنس بشنوئی گینگ’ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکی اور کینیڈین حکام کے مطابق، کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے جون 2023 میں ہونے والے قتل کی سپاری اور منصوبہ بندی کا الزام بھی لارنس بشنوئی اور اس کے گینگ پر ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت میں ایک اسرائیلی اور بھارتی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا خوفناک واقعہ، ایک سیاح قتل

اگرچہ جگو بھگوان پوریا ماضی میں بشنوئی کا قریبی ساتھی رہا ہے، لیکن بعد میں اس نے اپنا الگ نیٹ ورک بنا لیا تھا اور اب ان دونوں کے درمیان شدید دشمنی چل رہی ہے۔

عالمی انٹیلی جنس کی بڑی کامیابی اور مستقبل کے اثرات

نتیش کوشل عرف لالا کی ورمونٹ جیسے پرامن سرحدی علاقے سے گرفتاری مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک اور الرٹنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بین الاقوامی تعاون کا فائدہ

 کینیڈین پولیس کی ابتدائی معلومات اور امریکی بارڈر پیٹرول کی فوری کارروائی نے یہ ثابت کیا ہے کہ سرحد پار انٹیلی جنس شیئرنگ اب انتہائی تیز ہو چکی ہے۔

غیر ملکی سنڈیکیٹس کے لیے پیغام

 یہ گرفتاری واضح کرتی ہے کہ امریکی سرزمین پر پھیلنے والے غیر ملکی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ لارنس بشنوئی اور جگو بھگوان پوریا جیسے گینگز کا اب بین الاقوامی سطح پر پیچھا کیا جا رہا ہے۔

ہردیپ سنگھ نجر کیس پر اثرات

چونکہ اس آپریشن کا تعلق نجر قتل کیس کے ماسٹر مائنڈز (بشنوئی گینگ) کے نیٹ ورک کو توڑنے سے بھی ہے، اس لیے کوشل سے ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں کینیڈا اور امریکا میں موجود دیگر بین الاقوامی شوٹرز اور سہولت کاروں کے بارے میں اہم ترین معلومات سامنے آنے کی قوی امید ہے۔

Related Articles