موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، 100 روپے کے لوڈ میں 27 روپے سے زائد ٹیکس کی نذر

موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، 100 روپے کے لوڈ میں 27 روپے سے زائد ٹیکس کی نذر

ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین بھی ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے متاثر ہو رہے ہیں، جہاں ہر موبائل ریچارج پر مختلف ٹیکسز کی کٹوتی کی جاتی ہے،صارفین کو 100 روپے کا بیلنس لوڈ کرانے پر مکمل 100 روپے استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوتے بلکہ ایک بڑی رقم ٹیکسوں کی مد میں وصول کرلی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق موبائل صارفین ہر لوڈ پر مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد تک ٹیکسز ادا کرتے ہیں، اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل بیلنس لوڈ کرواتا ہے تو مختلف کٹوتیوں کے بعد اسے تقریباً 72.77 روپے کا بیلنس موصول ہوتا ہے، جبکہ تقریباً 27.23 روپے ٹیکسوں کی مد میں کٹ جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 100 روپے کے لوڈ پر سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جس کے تحت صارف کے بیلنس سے تقریباً 13.04 روپے منہا کیے جاتے ہیں،اس کے بعد باقی رہ جانے والے بیلنس پر 19.5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید تقریباً 14.19 روپے ٹیکس کی مد میں کٹ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :موبائل فونز پر پاکستانیوں نے کتنے ارب روپے خرچ کر ڈالے؟ سرکاری رپورٹ نے چونکا دیا

یوں مجموعی طور پر صارف کی جانب سے ادا کیے گئے 100 روپے میں سے ایک نمایاں حصہ حکومتی ٹیکسوں کی صورت میں چلا جاتا ہے اور صارف کو مکمل رقم کے بجائے کم بیلنس دستیاب ہوتا ہے۔

موبائل صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں موبائل سروسز پر بھاری ٹیکس عام صارفین کے لیے اضافی مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز اب روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، اس لیے ان پر عائد ٹیکسوں کا براہ راست اثر عام شہریوں، طلبہ، کاروباری افراد اور آن لائن کام کرنے والے افراد پر پڑتا ہے۔

صارفین کی جانب سے وقتاً فوقتاً مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو کم لاگت میں بہتر رابطے کی سہولت حاصل ہو سکے۔

editor

Related Articles