بابر اعظم کے بلے سے سینچری کیوں غائب؟ 42 ماہ سے انتظار جاری

بابر اعظم کے بلے سے سینچری کیوں غائب؟ 42 ماہ سے انتظار جاری

ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹاروبا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں قومی کپتان بابر اعظم اپنے کیریئر کے ایک نئے سنگِ میل کی جانب گامزن ہیں، تاہم ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی دسویں سینچری کا انتظار مسلسل طویل ہوتا جا رہا ہے۔

یہ میچ بابر اعظم کے کیریئر کا بطور کپتان 21 واں ٹیسٹ ہے، جبکہ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے یہ مجموعی طور پر 63 واں ٹیسٹ میچ ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں بابر اعظم دسویں نمبر پر موجود ہیں، اور اب تک 115 اننگز میں انہوں نے 9 سینچریاں اسکور کی ہیں۔

دسویں سینچری کہاں اٹک گئی؟

بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی سینچری 32 اننگز کے بعد اسکور کی تھی، تاہم اب ان کی دسویں سینچری کا انتظار مزید صبر آزما بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایڈن مارکرم کی شاندار سینچری، جنوبی افریقہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن بن گیا

ان کی آخری ٹیسٹ سینچری دسمبر 2022 میں کراچی کے میدان پر نیوزی لینڈ کے خلاف 161 رنز کی اننگز کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد سے دائیں ہاتھ کے بلے باز مسلسل بڑی اننگز کھیلنے کی کوشش میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے دسمبر 2022 کے بعد سے اب تک 42 ماہ کے عرصے میں 33 ٹیسٹ اننگز کھیلی ہیں، تاہم اس دوران وہ کسی بھی سینچری کو چھو نہیں سکے۔

غیر مستقل مزاجی کی جھلک

بابر اعظم کی بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس 42 ماہ کے طویل عرصے میں وہ صرف 2 مرتبہ ایسی اننگز کھیل سکے جن میں انہوں نے 100 سے زیادہ  گیندوں کا سامنا کیا۔

اسی عرصے میں 33 اننگز کے دوران انہوں نے محض 5 نصف سینچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 863 رنز بنائے، جو ان کے کیریئر کے معیار کے مطابق خاصے کم شمار کیے جا رہے ہیں۔

سیریز اور ٹیم کی صورتحال

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز 25 جولائی سے برائن لارا اسٹیڈیم، ٹاروبا میں ہوا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 2 اگست سے کھیلا جائے گا۔

یہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سائیکل کا اہم مقابلہ ہے، جس میں پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن کے لحاظ سے دونوں ٹیموں کے لیے یہ سیریز کافی اہمیت کی حامل ہے۔

بابر اعظم کو ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ کپتانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ دورِ قیادت کا تجربہ اس بار ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ٹیم مینجمنٹ نے پہلے ٹیسٹ میں 7 اسپیشلسٹ بیٹرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا بابر اعظم کی فارم واپس آ سکتی ہے؟

کرکٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق بابر اعظم کی 42 ماہ سے جاری سینچری کی خشک منتر ان کے کیریئر کا ایک تشویش ناک پہلو بن چکی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ان کے اعداد و شمار میں تسلسل کا واضح فقدان دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:بابر اعظم کی رینکنگ میں واپسی،آئی سی سی فہرست میں پاکستانی کھلاڑی بھی شامل

صرف 2 مرتبہ 100 سے زائد گیندیں کھیلنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کریز پر لمبے عرصے تک ٹھہرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جو ایک بلے باز کے لیے سینچری بنانے کی بنیادی شرط ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کیریبین سرزمین پر ماضی کے اعداد و شمار پاکستان کے حق میں رہے ہیں، اور اگر بابر اعظم صبر و تحمل کے ساتھ کھیلنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ سیریز ان کے لیے دسویں سینچری کا خشک منتر توڑنے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

چونکہ وہ بطور کپتان بھی میدان میں اتر رہے ہیں، اس لیے ذاتی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم کی قیادت کا دباؤ بھی ان کی بیٹنگ پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جو اس صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

Related Articles