راولپنڈی بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں واقع ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل اسکول کے واش روم ایریا میں مبینہ طور پر 5 سالہ کمسن طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی/بدسلوکی کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ہر پاکستانی کو دکھ اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے کہ آخر کب تک اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے اور حکومت کب ایکشن لے گی ۔
واقعہ کیا پیش آیا ؟
بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں واقع ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل اسکول کے واش روم ایریا میں مبینہ طور پر ایک سینیٹری ورکر (خاکروب) کی جانب سے 5 سالہ کمسن طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی/بدسلوکی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے ۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق بچی نے مبینہ طور پر گھر واپس آنے کے بعد اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے جسم کے خاص حصوں میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ یہ واقعہ اسکول میں پیش آیا تھا۔
واقعہ جاننے کے بعد متاثرہ بچی کے والدین اور دیگر طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد اسکول کیمپس پہنچ گئی اور شدید احتجاج کیا۔
پرنسپل کا واقعے پر ردعمل
واقعے کے بعد کیپمس پہنچنے پر سکول کی پرنسپل کا رویہ انتہائی سخت اور ہتک آمیز تھا ، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پرنسپل اس بات سے انکاری نظر آتی ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ بھی پیش آیا جب تک کہ ثبوت نیں ملتے ہم انویسٹی گیشن کریں گے پہلے پھر بتائیں گے یہی نہیں، ۔
آن لائن گردش کرنے والی ایک الگ ویڈیو میں مبینہ طور پر اسکول کے پرنسپل کو سی سی ٹی وی کیمروں پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب مبینہ واقعہ پیش آیا تو کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔
Shame on her pic.twitter.com/7NH2i64yO0
— Shumaila Nasir Satti (@Shumaila422422) September 10, 2026
والدین کا موقف
والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ کمسن بچوں کی حفاظت اسکول انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم اس حساس واقعے پر فوری اور شفاف کارروائی کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
احتجاج کے دوران اسکول کی پرنسپل مس شگن اور والدین کے درمیان تلخ کلامی اور بحث و تکرار بھی ہوئی ، انتظامیہ نے والدین کو اپنی انکوائری سے آگاہ کیا اور کہا کہ فوٹیج میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں ہے۔ تاہم، بچے کی والدہ نے مبینہ طور پر بریفنگ سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک اکاونٹ کے مطابق کل اسکول انتظامیہ نے والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، متاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق اسکول انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے، کوئی ٹھوس کاروائی کے بجائے الٹا ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں، والدین کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے مخصوص بلاک کی CCTV فوٹیج دکھانے کا انتظام کیا تھا لیکن متاثرہ بچی کے والدین نے اعتراض کیا اور ساری فوٹیج کو Publicly دکھانے سے منع کیا۔
بحریہ فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں مبینہ ہراسانی کا شکار ہونے والی 5 سالہ بچی کی والدہ کو سنیں، کل اسکول انتظامیہ نے والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، متاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق اسکول انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے، کوئی ٹھوس کاروائی کے بجائے الٹا ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں۔ pic.twitter.com/cL39i9Q3SU
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) September 11, 2026
والدین کا موقف تھا یہ فوٹیج وہ انفرادی طور پر دیکھنا چاہتے ہیں،سکول انتظامیہ کو موقف تھا فوٹیج میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، متاثرہ بچی کے والدین کو فوٹیج دکھانے کیلئے الگ انتظام کیا گیا، میٹنگ کے دوران اسکول انتظامیہ نے والدین کو بریفنگ دی تاہم والدین اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے، بلکہ متاثرہ بچی کی والدہ نے اسٹیج پر جاکر اسکول انتظامیہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ والدین کو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتارہے ہیں، میٹنگ کے بعد والدین اور کچھ بچوں سے بات ہوئی سب کا اتفاق تھا کہ اسکول انتظامیہ ضرور کچھ چھپا رہی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین برہم ، کڑی سزادینے اور واقعات کی روک تھام کا مطالبہ
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر شدید برہمی اور غم و غصے کا اطہار کیا ہے اور واقعے کیخلاف سخت ایکشن لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک خاتون نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے معاشرے میں جہاں کمسن بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، والدین اپنے بچوں کو ’گڈ ٹچ‘ اور ’بیڈ ٹچ‘ سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن جب کوئی بچی خود کسی مبینہ بدسلوکی کے بارے میں اپنی ماں کو بتاتی ہے تو اسے ہی غلط ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟
ہمارے ملک میں 18 مہینے کے بچے بچیاں ریپ کے بعد قتل ہورہے ہیں، اور ہم یہ گتھی سلجھانے کئ کوشش کر رہے ہیں کہ کیسے اپنے بچے کو گڈ یا بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہ کریں۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی بچی اپنی ماں کو بیڈ ٹچ کے بارے میں بتائے تو بچے کو ہی غلط ثاپت کرنے کئ کوشش کی جارہی ہوتی ہے۔… https://t.co/QbNjOnyiaB
— Amber Danish (@amberdanishh) September 10, 2026
خاتون نے اسکول انتظامیہ سے یہ سوال بھی کیا کہ بچیوں کے واش روم کے قریب مرد عملے کے رکن کو آنے کی اجازت کیوں دی گئی اور بچوں کی حفاظت کے لیے موجود حفاظتی انتظامات پر سوالات کیوں نہ اٹھائے گئے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں خاتون نے مبینہ واقعے کے بعد انتظامیہ اور پرنسپل کے سخت رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرکے شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں نہ کہ ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جائے جس سے والدین کے خدشات مزید بڑھیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ اس پرنسپل کی اپنی بچی کے ساتھ ایسا ھوتا یہ ایسی صفائی دے رھی ھوتی اسکول کی ساکھ بچانے کے لئے؟
کیا اس کی اپنی بچی کے ساتھ ایسا ھوتا یہ ایسی صفائی دے رھی ھوتی اسکول کی ساکھ بچانے کے لئے؟
بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں واقع ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل اسکول کے واش روم ایریا میں مبینہ طور پر ایک سینیٹری ورکر (خاکروب) کی جانب سے 5 سالہ کمسن طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی/بدسلوکی کا لرزہ خیز واقعہ… pic.twitter.com/6TMj1Q6aSb— صحرانورد (@Aadiiroy2) September 10, 2026
واقعے کے بعد والدین اور سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک اس ملک میں ننھی تتلیوں کو مسلنے کا سلسلہ جاری رہے گا ؟ اس طرح کے واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک ان کے کجرموں کو عبرتناک سزا نہیں دی جاتی ۔



