آزاد کشمیر راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب، مسلح شرپسند گرفتار، ہوشربا انکشافات

آزاد کشمیر راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب، مسلح شرپسند گرفتار، ہوشربا انکشافات

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ایکشن کمیٹی کے نام نہاد پرامن دعوؤں کی حقیقت طشت از بام کردی ہے۔

اس کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے ایک انتہائی خطرناک مسلح کارندے کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے انکشافات اور ویڈیو شواہد نے علاقے میں بد امنی پھیلانے والے عناصر کے مذموم عزائم کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

ویڈیو شواہد اور فائرنگ کا واقعہ

سامنے آنے والے ویڈیو شواہد میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر کو کھلے عام جدید اور متعدد خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کارکن گرفتار امریکی ساختہ اسلحہ برآمد، فنڈنگ سے متعلق اہم انکشافات

یہ عناصر نہ صرف عام کشمیری عوام کے امن کو تباہ کرنے میں ملوث ہیں بلکہ ریاست کے محافظوں یعنی سیکیورٹی فورسز کو بھی براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں کالعدم تنظیم کے ان ہی مسلح کارندوں کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا جوان سپاہی علی عباس شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

اہم گرفتاری اور برآمدگی

مظلومیت کا ناٹک رچانے والی اس کالعدم تنظیم کے اصل روپ کو بے نقاب کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے ایک اہم اور مسلح کارندے زوہیب خالد کو دبوچ لیا۔

تلاشی کے دوران گرفتار شرپسند کے قبضے سے جدید ترین امریکی ساختہ ایم فور رائفل برآمد کی گئی، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ان عناصر کو اندرونی اور بیرونی سطح پر جدید جنگی سازوسامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

ہوشربا انکشافات

دورانِ تفتیش گرفتار کارنده زوہیب خالد نے ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی دنگ کر دیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مرکزی سرغنہ کی جانب سے شرپسندوں کو خاص طور پر بد امنی پھیلانے، خوف و ہراس ایجاد کرنے اور سیکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچانے کے لیے جدید امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں فراہم کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کیساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ،اہم نکات پراتفاق کی خبریں جھوٹ کا پلندہ قرار

گرفتار کارندے نے اعتراف کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے رینجر یا پولیس کے کسی بھی ایک جوان کو شہید کرنے یا نشانہ بنانے پر 1 کروڑ روپے کی بھاری انعامی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ نوجوانوں کو پیسے کا لالچ دے کر ریاست کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔

ان ٹھوس ویڈیو شواہد اور گرفتار ملزم کے اعترافات نے ان تمام لفاظی اور دعوؤں کا پول ہمیشہ کے لیے کھول دیا ہے جس میں یہ تنظیم خود کو غیر مسلح اور پرامن ظاہر کرتی تھی۔

راولاکوٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک عام قانون شکنی کا نہیں، بلکہ ایک گہری سازش کا حصہ ہے جو کشمیری عوام کی آڑ میں ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف رچی جا رہی ہے۔ اس تجزیے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

دوغلا پن اور فریب کا خاتمہ

کالعدم تنظیمیں ہمیشہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ غیر مسلح ہونے کے دعوے دراصل عوام کو دھوکہ دینے اور قانون کی گرفت سے بچنے کی ایک چال ہوتے ہیں، لیکن راولاکوٹ میں جدید امریکی ہتھیاروں کی برآمدگی اور ویڈیو شواہد نے ان کے اس فریب کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔

دہشتگردی کی بین الاقوامی اور مقامی پشت پناہی

جدید امریکی ساختہ ایم فور جیسی رائفلوں کا عام شرپسندوں کے پاس پایا جانا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے سروں کی قیمتیں (ایک کروڑ روپے انعام) لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان عناصر کو دشمن قوتوں کی طرف سے بھاری مالی اور عسکری امداد مل رہی ہے۔

ریاستی رٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی

سپاہی علی عباس کا زخمی ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے ملک و قوم کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ بروقت کارروائی کرتے ہوئے زوہیب خالد جیسے کارندے کی گرفتاری اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

Related Articles