آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کے لیے اس خطے کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے تاریخ کو مسخ کرنے یا حقائق کے برعکس بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل بعض عناصر ایسے بیانات دے رہے ہیں جو نہ صرف تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ ان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
سردار مسعود خان نے اپنے بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت اور تحریک آزادی کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ماضی کے حالات کا درست ادراک ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سردار محمد ابراہیم خان اس دور میں قائدانہ کردار ادا نہ کرتے تو کوہالہ سمیت آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں پر بھارتی افواج کا قبضہ ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے کے عوام نے اپنے مستقبل کے تحفظ اور آزادی کے لیے جو جدوجہد کی وہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سردار محمد عبدالقیوم خان نے اپنی پوری سیاسی زندگی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور تحریک آزادی کی حمایت میں صرف کی۔ ان رہنماؤں کی خدمات کو متنازع بنانے کے بجائے ان کے کردار کو تاریخی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں سردار محمد ابراہیم خان اور سردار محمد عبدالقیوم خان پر سخت تنقید کی گئی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان رہنماؤں کے فیصلوں کے نتائج آج بھی خطے کے عوام بھگت رہے ہیں۔ کمیٹی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان شخصیات نے قبائلی لشکروں کے ساتھ مل کر ریاست کی تقسیم میں کردار ادا کیا۔