مصنوعی سورج کی تیاری،چین نے اہم قدم اٹھا لیا

مصنوعی سورج کی تیاری،چین نے اہم قدم اٹھا لیا

چین نے دنیا کے سب سے بڑے 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے، جسے مصنوعی سورج  کی تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد مستقبل میں جوہری فیوژن کے ذریعے صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی پیدا کرنا ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس کی جانب سے تیار کیا گیا یہ جدید ڈی نما سپر کنڈکٹنگ مقناطیس انتہائی گرم پلازما کو طاقتور مقناطیسی میدان کے ذریعے قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو جوہری فیوژن کے عمل کا بنیادی حصہ ہے۔

یہ نھی پڑھیں :یوٹیوب پر پاکستانی کانٹینٹ کی عالمی مقبولیت میں ریکارڈ اضافہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقناطیس 21 میٹر لمبا اور 12 میٹر چوڑا ہے اور اسے دنیا کے سب سے بڑے فیوژن ری ایکٹر کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا حجم اسی نوعیت کے بین الاقوامی فیوژن منصوبے میں استعمال ہونے والے مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ اس میں ذخیرہ کی جانے والی توانائی بھی تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مقناطیس 10 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت رکھنے والے پلازما کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ سورج میں قدرتی طور پر ہونے والے جوہری فیوژن کے عمل کو زمین پر دہرایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :اے آئی کے دور میں بچوں کی تصاویر شیئر کرنا کتنا محفوظ؟ نئی وارننگ جاری

چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والا زیادہ تر مواد اور ٹیکنالوجی مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے، جس سے غیر ملکی سپلائی اور ٹیکنالوجی پر انحصار کم ہوگا۔

چین کا ہدف ہے کہ وہ 2030 کے آس پاس فیوژن توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی سورج دراصل ایسا جوہری فیوژن ری ایکٹر ہے، جو سورج میں توانائی پیدا ہونے کے قدرتی عمل کی نقل کرتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں دنیا کو صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی فراہم کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles