ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے صوبے کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شاندار اقدام اٹھاتے ہوئے 21 فری میڈیکل کیمپس کا کامیاب انعقاد کیا ہے۔
ان کیمپس کے ذریعے ہزاروں مستحق شہریوں کو ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور مفت ادویات فراہم کی گئی ہیں۔
میڈیکل کیمپس کا دائرہ کار اور منعقدہ علاقے
فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے صوبے کے مختلف پسماندہ اضلاع میں یہ کیمپس لگائے گئے۔
ان علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان رہتا ہے، جس کے پیشِ نظر ایف سی نے بروقت اقدامات کیے۔
یہ فری میڈیکل کیمپس خاص طور پر درج ذیل علاقوں میں منعقد کیے گئے، ڈیرہ بگٹی، سوئی، ڈیرہ مراد ، مالی، اوچ، بابر کچھ، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی اور دیگر ملحقہ دور افتادہ علاقے شامل ہیں۔
طبی عملے کی خدمات اور مریضوں کا علاج
ان فلاحی کیمپس کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہاں ماہر ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ طبی عملہ موجود تھا جنہوں نے پوری توجہ کے ساتھ دور دراز سے آنے والے مریضوں کا طبی معائنہ کیا۔
ان کیمپس میں مجموعی طور پر 2,115 مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں موقع پر ہی بیماریوں کی تشخیص کے بعد علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
اس کے علاوہ ضرورت مند اور غریب افراد میں مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں تاکہ وہ مہنگی دوائیاں خریدنے کے بوجھ سے محفوظ رہ سکیں۔
پس منظر اور عوامی فلاحی خدمات
بلوچستان کے پسماندہ اور پہاڑی علاقوں میں بنیادی طبی مراکز کی کمی اور ذرائع آمدورفت کے مسائل کے باعث عام شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے اسپتالوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔
ایف سی بلوچستان (نارتھ) ہمیشہ سے ہی امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش رہا ہے۔ اس قسم کے میڈیکل کیمپس کا انعقاد ماضی میں بھی کیا جاتا رہا ہے تاکہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مقامی آبادی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور انہیں یہ احساس دلایا جا سکے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
صحت کی سہولیات اور سول ملٹری تعاون کی اہمیت
ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے لگائے جانے والے یہ فری میڈیکل کیمپس محض ایک روایتی سرگرمی نہیں ہیں، بلکہ یہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کے دل جیتنے اور انہیں بنیادی سہولیات کی دہلیز تک فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں جہاں غریب عوام مہنگے علاج کی سکت نہیں رکھتے، وہاں ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی اور مفت ادویات کی فراہمی ایک مسیحا کا کردار ادا کرتی ہے۔
اس طرح کے اقدامات نہ صرف عوامی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ اس سے مقامی آبادی اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں اور اعتماد کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ اس طرح کے فلاحی پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسیع کریں تاکہ ہر ضرورت مند تک علاج کی سہولت پہنچ سکے۔