گوگل پکسل 11 پرو ایکس ایل کے فیچرز لیک، نئے فون میں کیا کچھ خاص ہوگا؟

گوگل پکسل 11 پرو ایکس ایل کے فیچرز لیک، نئے فون میں کیا کچھ خاص ہوگا؟

 گوگل پکسل 11 پرو ایکس ایل کے اہم فیچرز لیک ہوگئے ہیں جس کے بعد کیمرا اور اے آئی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت کا امکان ہے۔

گیکی گیجیٹس کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون پکسل 11 پرو ایکس ایل کو متعارف کرنے سے قبل اس کے اہم فیچرز اور ڈیزائن سے متعلق تفصیلات لیک ہوگئی ہیں۔،

گوگل جو کہ 12 اگست کو اپنے ہارڈ ویئر ایونٹ میں نئی ڈیوائسز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پکسل 11 پرو ایکس ایل میں کیمرہ، مصنوعی ذہانت، پروسیسر اور کنیکٹیویٹی سمیت کئی شعبوں میں نمایاں اپ گریڈ کیے گئے ہیں۔

مذکورہ لیکس نے بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی صارفین میں ہلچل مچادی ہے ، لیکس کے مطابق گوگل اس بار ڈیزائن، کیمرہ، کارکردگی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں بہتری متعارف کرا سکتا ہے۔

لیک ہونے والی معلومات کے مطابق فون کے کیمرہ بار کو نئے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ اس میں ایل ای ڈی نوٹیفکیشن رنگ بھی شامل ہوگا۔ ابتدائی لیکس میں اس فیچر کو ’پکسل گلو‘ کا نام دیا گیا تھا، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اس کا ممکنہ آفیشل نام ’ہائی لائٹ‘ ہوگا۔

مختلف رنگ اور کیمرے میں بہتری 

پکسل 11 پرو ایکس ایل کو مبینہ طور پر پانچ رنگوں میں پیش کیا جائے گا، جن میں گرین، لائٹ گرین، سلور، مڈنائٹ اور ریڈ شامل ہیں،  اس فون میں 6.8 انچ کا ایل ٹی پی او، او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا جائے گا جو 120 ایچ زیڈ ریفریش ریٹ کو سپورٹ کرے گا جبکہ  فرنٹ پر 13 میگا پکسل کا الٹرا وائیڈ سیلفی کیمرہ شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

لیکس کے مطابق فون کے ڈیزائن میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں، پکسل 11 پرو ایکس ایل میں مضبوط ایلومینیم فریم اور گوریلا گلاس وکٹس تھری دیا جاسکتا ہے، جس سے فون کو خراشوں اور گرنے کی صورت میں بھی تحفظ ملنے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ پکسل 11 پرو ایکس ایل کا ریئر کیمرہ سیٹ اپ تین کیمروں پر مشتمل ہوگا، لیکس کے مطابق اس میں 50 میگا پکسل کا مین کیمرہ، 48 میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمرہ اور 48 میگا پکسل پیری اسکوپ ٹیلی فوٹو کیمرہ شامل ہوگا، جبکہ ٹیلی فوٹو کیمرہ 5ایکس آپٹیکل زوم فراہم کرے گا۔

اس کے علاوہ فون کے سافٹ ویئر میں 120 ایکس پرو زوم فیچر شامل کیے جانے کی توقع ہے، جس کا مقصد دور موجود اشیا اور مناظر کو زیادہ تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا ہے۔

گوگل کی جیمینائی اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کیمرہ کم روشنی میں بہتر تصاویر، منظر شناسی اور حقیقی وقت میں امیج پروسیسنگ جیسی صلاحیتوں سے لیس ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سم کارڈ کے نام پر فراڈ، پی ٹی اے نے شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں

 ’موشن کیپچر‘ نامی ایک نیا موڈ بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں ، جو حرکت کرتے ہوئے افراد یا اشیا کو اے آئی کی مدد سے ٹریک کرکے فوکس برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔

ٹینسر جی6 سے کارکردگی میں بہتری

فون میں گوگل کا نیا ٹینسر جی6 پروسیسر شامل کیے جانے کا بھی امکان ہے، یہ چپ ملٹی ٹاسکنگ، گیمنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور اے آئی پر مبنی ایپلی کیشنز میں بہتر کارکردگی فراہم کرسکتی ہے۔

ٹینسر جی6 میں آن ڈیوائس مشین لرننگ، حقیقی وقت میں زبان کے ترجمے اور ذہین ٹیکسٹ تجاویز جیسی خصوصیات کو مزید بہتر بنانے کی صلاحیت متوقع ہے اور رپورٹس میں بیٹری کے حوالے سے بھی بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فون میں ایسا ایڈاپٹیو پاور مینجمنٹ سسٹم شامل ہوسکتا ہے جو استعمال کے مطابق توانائی کے وسائل کو منظم کرکے بیٹری ٹائمنگ بڑھانے میں مدد دے گا۔

اے آئی فیچرز 

پکسل 11 پرو ایکس ایل میں کئی نئے اے آئی فیچرز کی شمولیت بھی متوقع ہے ،  ان میں گمشدہ پالتو جانوروں کی شناخت اور تلاش میں مدد دینے والا اینیمل ریسکیو فیچر بھی شامل ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ جدید وائس ریکگنیشن، صارف کے استعمال کے مطابق ایپس کی تجاویز، بہتر سیکیورٹی، آن ڈیوائس انکرپشن اور حقیقی وقت میں خطرات کی نشاندہی جیسے فیچرز بھی متوقع ہیں۔

نئے فوکس موڈ کے ذریعے صارف غیر ضروری نوٹیفکیشنز کو عارضی طور پر خاموش (سائلینٹ) کرکے اہم کاموں پر توجہ مرکوز کرسکے گا، رپورٹس میں بہتر اسپیکرز، اسپیشل آڈیو اور ممکنہ طور پر جدید آگمینٹڈ ریالٹی (اے آر) فیچرز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اگرچہ پکسل 11 پرو ایکس ایل کے حوالے سے سامنے آنے والی زیادہ تر معلومات لیکس اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، تاہم ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ گوگل اپنے نئے فلیگ شپ میں ہارڈویئر کے ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے۔

گوگل نے تاحال فون کی حتمی خصوصیات اور قیمت کا اعلان باضابطہ لانچنگ پر کیاجائے گا ،  اس وقت تک پکسل 11 پرو ایکس ایل کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات کو حتمی معلومات کے بجائے محض لیک اور قیاس آرائی ہی سمجھا جانا چاہیے۔

editor

Related Articles