بھارتی پولیس نے معروف فلم ڈائریکٹر شکیل نورانی کو 33 سالہ اداکارہ کی جانب سے مبینہ جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ کی شکایت کے بعد گرفتار کرلیا ہے۔
شکیل نورانی ’بڑے دل والا‘ اور ’جورو کا غلام‘ سمیت متعدد بھارتی فلموں کی ہدایت کاری کرچکے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ ان کی شکیل نورانی سے ملاقات کام کے سلسلے میں ہوئی تھی۔ اداکارہ کے مطابق فلمی منصوبے پر بات چیت کے بعد ڈائریکٹر نے انہیں اپنے گھر بلایا۔
اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا، جب شکیل نورانی نے انہیں نشہ آور چیز دی، جس کے بعد ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
شکایت کنندہ کے مطابق مبینہ واقعے کے دوران نازیبا ویڈیوز بھی بنائی گئیں، جنہیں بعد میں اسے دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اداکارہ نے الزام لگایا کہ اسی بنیاد پر کئی برس تک اسے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے شکیل نورانی کو 8 اگست کی صبح حراست میں لے لیا۔
بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے 12 اگست 2026 تک پولیس ریمانڈ منظور کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد و بیانات کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب شکیل نورانی کے وکیل ایڈووکیٹ وکاس سنگھ گور نے اپنے موکل پر عائد تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
وکیل کا مؤقف ہے کہ شکیل نورانی کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست نہیں۔ قانونی طور پر شکیل نورانی اس وقت تک بے قصور تصور کیے جائیں گے جب تک عدالت میں ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔
پولیس کی جانب سے معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ کیس میں سامنے آنے والے شواہد اور فریقین کے بیانات کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔