جعلی ویزا ویب سائٹ، بیورو آف امیگریشن نے شہریوں کو خبردار کردیا

جعلی ویزا ویب سائٹ، بیورو آف امیگریشن نے شہریوں کو خبردار کردیا

بیرونِ ملک ملازمت یا سفر کا ارادہ رکھنے والے پاکستانی شہری ہوشیار ہوجائیں،بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو جعلی ویزا ویب سائٹ سے خبردار کردیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق یک ایسی ویب سائٹ سامنے آئی ہے جو کرغزستان کے ویزا کے نام پر لوگوں سے درخواست، تصدیق، ادائیگی اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے،  بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اس ویب سائٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

بیورو کے مطابق www.evisa-e-gov-kg.asia نامی ویب سائٹ کرغزستان کے لیے آن لائن ویزا درخواست اور ویزا تصدیق کی سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم یہ دعویٰ جعلی ہے۔ شہریوں کو کسی بھی صورت اس ویب سائٹ پر ویزا درخواست جمع کرانے یا اپنی معلومات درج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

جعلی ویزا ویب سائٹ سے کیوں بچنا ضروری ہے؟

جعلی ویزا ویب سائٹس بظاہر سرکاری پورٹلز جیسی دکھائی دے سکتی ہیں،  یہی وجہ ہے کہ عام صارف کے لیے اصل اور جعلی ویب سائٹ میں فرق کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، دبئی نے ویزا پالیسی میں بڑی نرمی کردی

بیورو آف ایمیگریشن نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ ویب سائٹ کو ویزا درخواست، ویزا تصدیق، آن لائن ادائیگی یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ بصورت دیگر شہری مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اپنی حساس معلومات بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

پاسپورٹ اور بینک کی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں

حکام نے شہریوں کو خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ نامعلوم یا مشتبہ ویب سائٹس پر پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ یا دیگر حساس معلومات درج نہ کریں۔

اسی طرح کسی مشتبہ لنک کو دوسرے افراد کو فارورڈ کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دینا زیادہ محفوظ اقدام ہے۔ اس سے ممکنہ فراڈ کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

 ویزا کے لیے کیا احتیاط کریں؟

بیرونِ ملک سفر یا ملازمت کے خواہش مند افراد کو چاہیے کہ ویزا سے متعلق معلومات حاصل کرتے وقت صرف کرغزستان کے سرکاری ویزا پورٹل یا متعلقہ سفارت خانے سے تصدیق شدہ ویب سائٹ استعمال کریں۔

خاص طور پر کسی لنک پر کلک کرنے سے پہلے ویب سائٹ کا ڈومین ضرور چیک کریں،  اگر ویب ایڈریس غیر معمولی ہو، سرکاری ادارے کے نام سے مشابہہ ہو یا فوری ادائیگی اور ذاتی معلومات کا مطالبہ کرے تو مزید تصدیق کے بغیر اس پر کارروائی نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں :عمان کا دو ہفتے کا سیاحتی ویزا بالکل مفت، جانیے کون اہل ہے؟

بیرونِ ملک ملازمت اور سفر کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ویزا فراڈ سے متعلق ایسے معاملات عام شہریوں کے لیے خاص تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، ایک معمولی سی غلطی سے نہ صرف رقم ضائع ہوسکتی ہے بلکہ شناختی اور مالی معلومات بھی غلط ہاتھوں میں جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اس لیے جعلی ویزا ویب سائٹ سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ کسی بھی آن لائن ویزا سروس پر اعتماد کرنے سے پہلے اس کی سرکاری حیثیت کی تصدیق کی جائے،  بیورو آف امیگریشن کی حالیہ تنبیہ بھی شہریوں کو اسی حوالے سے محتاط رہنے کا واضح پیغام دیتی ہے۔

editor

Related Articles