یہ بات شاید بہت سے پاکستانیوں کے لیے حیران کن ہو کہ دنیا کا پہلا پی سی بوٹ سیکٹر وائرس2 پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا۔
’برین‘ نامی یہ وائرس جنوری 1986 میں لاہور کے رہائشی دو بھائیوں، باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے تیار کیا تھا۔ اسے دنیا کا پہلا پی سی بوٹ سیکٹر وائرس قرار دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وائرس کو کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانے یا ڈیٹا چوری کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد سافٹ ویئر کی غیر قانونی نقل اور پائریسی کو روکنا تھا۔
دونوں بھائیوں نے ایک میڈیکل سافٹ ویئر تیار کیا تھا، جس کی غیر مجاز کاپیاں بنائے جانے کے بعد انہوں نے ’برین‘ وائرس تیار کیا۔ یہ وائرس اُس دور میں استعمال ہونے والی 5.25 انچ فلاپی ڈسکس کے ذریعے پھیلتا تھا۔ جب کوئی شخص سافٹ ویئر کی غیر قانونی کاپی بناتا تو وائرس فلاپی ڈسک کے بوٹ سیکٹر میں منتقل ہوجاتا تھا۔
’برین‘ وائرس کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک پوشیدہ کاپی رائٹ پیغام شامل تھا، جس میں دونوں بھائیوں کی دکان کا پتہ اور فون نمبر بھی درج تھا۔ اس وائرس کا مقصد صارف کے کمپیوٹر میں موجود ڈیٹا کو تباہ کرنا نہیں تھا۔ یہ نہ تو فائلیں ڈیلیٹ کرتا تھا اور نہ ہی کمپیوٹر سسٹم کو کریش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
بعد میں ’برین‘ وائرس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ گیا اور کمپیوٹر سیکیورٹی کے شعبے میں اسے ایک اہم تاریخی واقعہ سمجھا جانے لگا۔یوں کمپیوٹر وائرس کی تاریخ کا آغاز ایک ایسے وائرس سے ہوا جسے دو پاکستانی بھائیوں نے اپنے سافٹ ویئر کو پائریسی سے بچانے کے لیے تیار کیا تھا۔ آج دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی ایک بڑا شعبہ بن چکی ہے، لیکن اس تاریخ میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ان دونوں بھائیوں کا نام بھی نمایاں طور پر درج ہے۔