خلا کے بڑھتے خطرے کا حل پاکستان سے ،پاکستانی محقق کا خلائی منصوبہ سامنے آگیا

خلا کے بڑھتے خطرے کا حل پاکستان سے ،پاکستانی محقق کا خلائی منصوبہ سامنے آگیا

پاکستانی خلائی ٹیکنالوجی کی محقق اور اختراع کار سارہ پراچہ نے خلا میں بڑھتے ہوئے ملبے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد اور مستقبل پر مبنی تصور پیش کیا ہے، جس میں خطرناک خلائی ملبے کی بروقت نشاندہی اور اسے قابو کرنے کے لیے چھوٹے سیٹلائٹس پہلے سے مخصوص مداروں میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سارہ پراچہ نے اپنی 2025 کی تحقیق ’خلائی اثاثوں کے اختتامی مرحلے کے پروٹوکولز 2040‘ میں ایک ایسے ’آربیٹل ریپڈ رسپانس‘ نظام کا تصور پیش کیا، جس کے تحت زیادہ خطرے والے مداری راستوں میں چھوٹے سیٹلائٹس پہلے سے موجود ہوں گے۔

اس تصور کے مطابق اگر کسی سیٹلائٹ یا خلائی ملبے سے دوسرے خلائی اثاثوں کو خطرہ لاحق ہو تو یہ خودکار سیٹلائٹس فوری طور پر فعال ہوکر خطرناک ملبے کی گردش کم کرنے یا اس کا راستہ تبدیل کرنے میں مدد کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:سائبر حملوں کا خطرہ، صارفین کیلیے اہم ہدایات جاری

اس نظام کا بنیادی تصور 4 مراحل پر مشتمل ہے خطرے کی پیش گوئی، فوری ردعمل دینے والے سیٹلائٹس کی پیشگی تعیناتی، ضرورت کے وقت انہیں فعال کرنا، اور خطرناک ملبے کی گردش کم یا سمت تبدیل کرنا۔

خلائی ملبہ اس وقت عالمی خلائی صنعت کے لیے ایک اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ مدار میں موجود ناکارہ سیٹلائٹس، راکٹوں کے ٹکڑے اور دیگر اجزا تیز رفتاری سے گردش کرتے ہیں اور فعال سیٹلائٹس سمیت دیگر خلائی مشنز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس کہاں بنا؟ جواب جان کر پاکستانی فخر کریں گے

سارہ پراچہ کا تصور اس روایتی طریقہ کار سے مختلف ہے جس میں کسی خطرے کے پیدا ہونے کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے مشن بھیجا جاتا ہے۔ ان کے منصوبے میں ایسے خودکار ’ریسپانڈر‘ سیٹلائٹس پہلے ہی ممکنہ خطرے والے مداری علاقوں میں موجود ہوں گے، تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جاسکے۔

یہ تصور اس وقت مزید اہمیت اختیار کرجاتا ہے جب انسان چاند اور اس سے آگے خلائی سرگرمیوں کو بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مستقبل میں چاند کے گرد اور دیگر مقامات پر زیادہ خلائی انفراسٹرکچر قائم ہونے کی صورت میں خلائی ملبے کی نگرانی اور بروقت انتظام پہلے سے زیادہ اہم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیپ فیک کا بڑھتا خطرہ، جعلی ویڈیو اور آواز کو کیسے پہچانیں؟

سارہ پراچہ کی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ خلائی مشنز کی منصوبہ بندی صرف سیٹلائٹ یا خلائی جہاز کو مدار میں پہنچانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے پورے لائف سائیکل، بشمول ناکارہ ہونے کے بعد محفوظ طریقے سے ہٹانے یا اس سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کو بھی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا چاہیے۔

یہ تصور پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلائی پائیداری، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مستقبل کی خلائی سیکیورٹی جیسے شعبوں میں پاکستانی محققین نئے خیالات پیش کرسکتے ہیں۔

editor

Related Articles