امریکا شدید مالی بحران کی لپیٹ میں آگیا، محکمہ خزانہ کی ہنگامی وارننگ

امریکا شدید مالی بحران کی لپیٹ میں آگیا، محکمہ خزانہ کی ہنگامی وارننگ

امریکا میں بڑھتے ہوئے مالیاتی بحران کے خطرات کے پیشِ نظر محکمہ خزانہ نے تشویشناک صورتحال پر خبردار کر دیا ہے، کیونکہ ملک کا مجموعی عوامی قرض تاریخ میں پہلی بار 400 کھرب ڈالر کی نفسیاتی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکی معیشت کے لیے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکا کا مجموعی عوامی قرض 2017 کے بعد سے اب تک دگنا ہو چکا ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہوا قرض ملکی معیشت کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کا یہ حجم ملکی جی ڈی پی کے مقابلے میں جس رفتار سے بڑھ رہا ہے، وہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

سیاسی ادوار اور قرضوں کا گراف

قرضوں کے اس پہاڑ کے پیچھے سیاسی فیصلہ سازی کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو صدارتی مدتوں کے دوران امریکی قرض میں 11.6 ٹریلین ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی کے اثرات، ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی سست روی اور مہنگائی سے خبردار کردیا

جب ٹرمپ نے 2017 میں صدارت کا حلف اٹھایا تھا، اس وقت یہ قرض 19.95 ٹریلین ڈالر تھا۔ دوسری جانب، سابق صدر جو بائیڈن کی مدتِ صدارت کے دوران بھی عوامی قرض میں 8.4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

معاشی بحران کی بنیادی وجوہات

رپورٹ کے مطابق معاشی عدم توازن کی کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔ سماجی بہبود کے اخراجات میں مسلسل اضافہ اور قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں نے خزانے پر بوجھ ڈال دیا ہے۔

ایک طرف اخراجات بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف ٹیکسوں میں کمی کے باعث حکومتی آمدنی کے ذرائع سکڑ گئے ہیں، جس سے خسارہ مزید گہرا ہو رہا ہے۔

کیا یہ ایک سنگین معاشی انتباہ ہے؟

ایک ماہر صحافی کی نظر میں یہ صورتحال کسی بھی ملک کے لیے خوش آئند نہیں ہو سکتی۔ جب کسی سپر پاور کا قرض اس کی معاشی پیداوار کی رفتار سے زیادہ بڑھنے لگے، تو یہ معاشی دیوالیہ پن کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔

امریکا کی موجودہ مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد دکھائی دیتا ہے؛ عوامی مقبولیت کے لیے سماجی اخراجات برقرار رکھنا اور سیاسی مقاصد کے لیے ٹیکسوں میں کمی، دونوں ہی عمل ایک ایسے ‘ڈیٹ ٹریپ’ کو جنم دے رہے ہیں جس سے نکلنا اب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان، ایران کا بھی بڑا دعویٰ

اگر بروقت سخت مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں، تو امریکا کو طویل مدتی کساد بازاری اور مہنگائی کے ایسے طوفان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی منڈیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

امریکی قرضوں کا یہ بحران برسوں پر محیط مالیاتی غیر ذمہ داری اور جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات کا نتیجہ ہے۔

ماضی میں بھی قرضوں کی حد بڑھانے کے لیے کانگریس میں شدید تنازعات دیکھے گئے ہیں، تاہم 400 کھرب ڈالر کا یہ اعداد و شمار ایک نیا اور خوفناک سنگ میل ہے، جس نے واشنگٹن کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

Related Articles