امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 250 سے زائد دن سمندر میں گزارنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ ہوگیا، جبکہ اس کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے خطے میں ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جارج واشنگٹن کی آمد کے بعد ابراہم لنکن کو طویل تعیناتی سے واپس جانے کا موقع ملا ہے، ابراہم لنکن نومبر 2025 میں امریکا سے روانہ ہوا تھا اور بعد میں اسے مشرق وسطیٰ منتقل کردیا گیا، جہاں اس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔
5 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی
ابراہم لنکن پر تقریباً 5 ہزار اہلکار تعینات تھے، جنہیں معمول سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک سمندر میں رہنا پڑا، جہاز نے 200 سے زائد دن کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں گزارے، جو امریکی بحریہ کے لیے غیر معمولی طور پر طویل تعیناتی سمجھی جارہی ہے۔
طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود اہلکاروں کو بنیادی ضروریات، خوراک اور دیگر سامان کی قلت کا سامنا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، بعض اہلکاروں کے اہل خانہ نے پانی، خوراک، ڈاک اور دیگر سہولیات سے متعلق مسائل کی شکایات بھی کیں۔
اہلکاروں کی ذہنی صحت پر تشویش
رپورٹس میں ابراہم لنکن کے عملے کی ذہنی صحت اور طویل عرصے تک مسلسل سمندر میں رہنے کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیاامریکی قانون سازوں اور اہلکاروں کے خاندانوں کی جانب سے پینٹاگون سے عملے کی فلاح و بہبود کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔
پینٹاگون کا مؤقف
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور بحریہ کے حکام نے جہاز پر حالات سے متعلق بعض رپورٹس کو مسترد یا ان کی شدت کو کم قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے لیے خوراک، پانی، ایئر کنڈیشننگ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی جاری رہی۔
ابراہم لنکن کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی برقرار رکھنے کے لیے جارج واشنگٹن سمیت دیگر جنگی بحری اثاثوں کو استعمال کررہا ہے۔