وفاقی حکومت نے ملک بھر میں غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سابق آپریشن کی ناکامی کے بعد نئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
نئی ٹاسک فورس میں حساس اداروں، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شامل ہوں گے،وفاقی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھی ٹاسک فورس کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ ٹاسک فورس ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے ماتحت کام کرے گی۔
بلیک میلنگ اور اسکمنگ کی تحقیقات
ٹاسک فورس غیرقانونی کال سینٹرز میں ہونے والی مبینہ بلیک میلنگ، گیمبلنگ اور آن لائن اسکمنگ سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کرے گی،کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کی تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر وزارت داخلہ کو پیش کی جائیں گی، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ٹاسک فورس کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں قائم غیرقانونی کال سینٹرز کی فہرست بھی مرتب کرلی گئی ہے، جس کے بعد شہر میں کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں 275 غیرملکی گرفتار
واضح رہے کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین تھری میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی کال سینٹر چلانے والے 275 غیرملکیوں کو گرفتار کیا تھا۔
کارروائی کے دوران کال سینٹر انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر غیر اخلاقی مواد کی تیاری میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا،غیر اخلاقی مواد کی تیاری کے لیے غیرملکی خواتین اور مردوں کو بھرتی کیا گیا تھا، جبکہ کال سینٹر میں مبینہ طور پر مختلف غیرقانونی سرگرمیاں جاری تھیں،گرفتار افراد کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے فارن ایکٹ جبکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔