امریکا اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ ملٹری مصنوعی ذہانت ٹاسک فورس کا اعلان کر دیا

امریکا اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ ملٹری مصنوعی ذہانت ٹاسک فورس کا اعلان کر دیا

امریکا اور متحدہ عرب امارات نے دفاعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے مشترکہ ملٹری مصنوعی ذہانت ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس مشترکہ ٹاسک فورس کا نام ٹاسک فورس ٹیلن سائنپس رکھا گیا ہے جو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں قائم ہوگی۔ ٹاسک فورس میں امریکا اور متحدہ عرب امارات کے تقریباً 20 ماہرین شامل ہوں گے جو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ٹاسک فورس باقاعدہ طور پر آنے والے ہفتوں میں کام شروع کرے گی۔ اس کا بنیادی مقصد فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتوں کو تیزی سے متعارف کرانا اور انہیں عملی دفاعی ضروریات کے لیے استعمال کرنا ہے۔

انٹیلی جنس اور اہم تنصیبات کا تحفظ ترجیح

امریکی اور اماراتی ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس مصنوعی ذہانت کو انٹیلی جنس معاونت کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اہم تنصیبات کے تحفظ اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کی نگرانی پر بھی توجہ دے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے یو اے ای پر حملے کی ویڈیو جعلی نکلی ، بھارتی ایکس اکاؤنٹ کی گمراہ کن پوسٹ بے نقاب

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو فوجی شعبے میں تیزی سے بروئے کار لانا دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم حصہ ہوگا۔

ٹاسک فورس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے ماہرین کے ساتھ سائبر سکیورٹی کے ماہرین بھی شامل ہوں گے، جس سے اس کے دائرہ کار میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سائبر دفاع بھی شامل ہوگا۔

ابوظبی میں مشترکہ ٹیم کام کرے گی

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ٹاسک فورس کا مرکز ابوظبی ہوگا اور اس میں دونوں ممالک کے تقریباً 20 ماہرین شامل ہوں گے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتوں کو تیزی سے فوجی شعبے تک پہنچانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مصنوعی ذہانت کا فوجی استعمال بڑھانے کی کوشش

ٹاسک فورس کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب دنیا بھر میں ممالک دفاع، انٹیلی جنس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :متحدہ عرب امارات پر منڈلاتے خطرات،امریکا کی وارننگ کے بعد یو اے ای میں ہائی الرٹ، صورتحال سنگین

امریکی اور اماراتی ٹاسک فورس بھی اسی رجحان کا حصہ ہے جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کو فوجی فیصلہ سازی، انٹیلی جنس معلومات کے تجزیے، اہم تنصیبات کے تحفظ اور علاقائی سکیورٹی کی نگرانی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ٹاسک فورس آنے والے ہفتوں میں باضابطہ طور پر فعال ہوگی

editor

Related Articles