سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک واقعے کے حوالے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایک خاتون افسر کو مبینہ طور پر طلبہ کے ایک ہجوم کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد ان کے شوہرلیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ان کی مدد کے لیے موقع پر پہنچے تھے جہاں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر جدون نے طلبہ کا ایک گروہ اکٹھا کیا جس کے بعد خاتون افسر کو ہراساں کرنے کی صورتحال پیدا ہوئی۔ خاتون افسر نے اپنی حفاظت کے لیے اپنے شوہر کو طلب کیا، جس پر لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار یونیورسٹی پہنچے۔
ذرائع کے مطابق موقع پر موجود ہجوم نےلیفٹیننٹ کرنل اسفند یار کے ساتھ بھی بدسلوکی کی اور ان کی وردی پھاڑنے کی کوشش کے ساتھ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم، صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ہجوم نے خاتون افسر کو ہراساں کیا۔
ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار نے اپنی اہلیہ کے تحفظ اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد بعض سیاسی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے معاملے کو مختلف انداز میں پیش کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
شہریوں کے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شوہر کا اپنی اہلیہ کو خطرے سے نکالنے اور اس کی حفاظت کے لیے موقع پر پہنچنا فطری عمل ہے اور کرنل اسفند نے بھی اسی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تاہم یوتھیوں نے سوشل میڈیا پر واقعہ کو غلط رنگ دیتے ہوئے قومی ادارے کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔