ایران کی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے کو نتیجہ خیز اور سود مند قرار دے دیا۔
ایرانی صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔
ایران کے صدارتی دفتر کے نائب ترجمان سید مہدی طباطبائی نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای بھی پہلی بار منظرِعام پر آگئے
سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای بھی پہلی بار منظرِعام پر آگئے جو یقینا فیلڈ مارشل کی کامیاب سفارتکاری اور امن کی کوششوں کا بہترین ثبوت ہے ۔
🚨فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن کیلئے انتھک کوششیں جاری، فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کے دوران مجتبی خامنہ ای پہلی بار منظرعام پر آ گئے۔۔۔ pic.twitter.com/joSAdu9u0H
ایرانی سپریم لیڈرمجتبی خامنہ ای بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے ، جس سے ان کے متعلق ہونیوالی چہ مگوئیاں بھی دم توڑ گئیں ۔
اس سے قبل ایک بیان میں وزیرداخلہ محسن نقوی نے بتایا تھا کہ ایران میں ہونے والی ملاقات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی اور تنازع کے جامع حل کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور میری ایرانی صدر سے انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی جس میں ایران، امریکا تنازع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس دوران ایرانی صدر نے اپنی حکومت کا مؤقف اور تحفظات کھل کر بیان کیے۔
واضح رہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔
اس اعلیٰ سطحی دورے کو تہران میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور خطے کے سکیورٹی امور کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر کے نمائندہ برائے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بات چیت بھی ہوئی ، دونوں جانب سے علاقائی امن اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ کیا گیا۔
ایران کی قیادت نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے مثبت کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔