‘ایک بار چارج پر 310 کلومیٹر کا سفر’، سوزوکی نے اپنی پہلی سستی الیکٹرک کی کار ‘ای سکائی’ پیش کردی

‘ایک بار چارج پر 310 کلومیٹر کا سفر’، سوزوکی نے اپنی پہلی سستی الیکٹرک کی کار ‘ای سکائی’ پیش کردی

جاپانی آٹو موبائل ساز کمپنی سوزوکی نے شہری سفر کو ماحول دوست اور کم خرچ بنانے کے لیے اپنی پہلی الیکٹرک ‘کی کار’ (ای سکائی) کا عالمی سطح پر پردہ اٹھا دیا ہے۔

26 کلوواٹ گھنٹہ کی لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹری کے ساتھ یہ نئی برقی گاڑی 310 کلومیٹر کی شاندار رینج فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ کم وزن اور کم خرچ گاڑی ابتدا میں نومبر سے جاپان میں برائے فروخت پیش کی جائے گی، جبکہ بعد ازاں اسے عالمی منڈیوں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

سوزوکی نے ‘ای سکائی’ کو خصوصی طور پر توانائی کی بچت اور ہلکے وزن کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھ کر تیار کیا ہے۔

یہ گاڑی 1 کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی میں تقریباً 12 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے، جو اسے چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ کم خرچ بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مٹسوبشی کی نئی الیکٹرک کار ’اکلپس اسپورٹ بیک‘ منظرِ عام پر، شاندار رینج اور جدید فیچرز کی تفصیلات جانیے

گاڑی کی لمبائی 3,395 ملی میٹر، چوڑائی 1,475 ملی میٹر اور اونچائی 1,625 ملی میٹر رکھی گئی ہے تاکہ یہ جاپان کی روایتی ‘کی کار’ کی قانونی حدود کے عین مطابق رہے۔

حریف کمپنیوں کی اونچی برقی گاڑیوں کے برعکس سوزوکی نے اس کی چھت کی اونچائی کو نسبتاً کم رکھا ہے اور اسے بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کو بھی مدِ نظر رکھ کر ڈیزائن کیا ہے۔

ان ہاؤس الیکٹرک پاور ٹرین اور بیٹری ٹیکنالوجی

‘ای سکائی’ کی ایک اہم خصوصیت سوزوکی کا تیار کردہ پہلا ان ہاؤس ‘ای ایکسل’ ڈرائیو سسٹم ہے۔ اعلیٰ ترین رفتار یا تیز تر پرفارمنس پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے کمپنی نے اس ڈرائیو سسٹم کو چھوٹا، سمارٹ اور ہلکا رکھنے پر ترجیح دی ہے۔

گاڑی کا پلیٹ فارم خاص طور پر برقی کی کارز کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں بیٹری کو گاڑی کے فرش کے نیچے نصـب کیا گیا ہے تاکہ ایرو ڈائنامکس کی کارکردگی بہتر ہو اور گاڑی کا توازن قائم رہے۔

فاسٹ چارجنگ کی سہولت اور سمارٹ فیچرز

چارجنگ کی صلاحیت کے معاملے میں ای اسکائی 50 کلوواٹ کی ڈی سی فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرتی ہے، جس کی بدولت اس کی بیٹری محض 25 منٹ میں 80 فیصد تک چارج ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب گھر پر عام 3 کلوواٹ کے اے سی چارجر کے ساتھ مکمل چارجنگ میں تقریباً 8 گھنٹے اور 6 کلوواٹ کے چارجر کے ساتھ ساڑھے 4 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔

مزید برآں  گاڑی میں جدید ہیٹ پمپ، ون پیڈل ڈرائیونگ اور دو طرفہ چارجنگ (بائی ڈائریکشنل چارجنگ) جیسے جدید ترین فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔

کیبن اور اندرونی سہولیات

گاڑی کے اندرونی حصے کو جدید ٹیکنالوجی اور صارف کی سہولت کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ کیبن میں ایک ڈیجیٹل انسٹرومنٹ کلسٹر اور 10.1 انچ کا بڑا ٹچ سکرین انفوٹینمنٹ سسٹم دیا گیا ہے۔

ڈرائیور کے آرام اور سہولت کے لیے ہیٹڈ سٹیئرنگ ویل اور الیکٹرانک پارکنگ بریک بھی موجود ہے۔ اشیاء رکھنے کے لیے دو منزلہ سینٹر کونسل اور مسافر کی سائیڈ پر کپ ہولڈر کے ساتھ ایک ملٹی پرپز ٹرے جیسے سمارٹ ڈیزائن شامل کیے گئے ہیں۔

قیمت اور مارکیٹ میں آمد

اگرچہ سوزوکی نے ابھی تک ‘ای سکائی’ کی حتمی قیمت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی ترجیح اس گاڑی کو زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کے لیے خریدار دوست بنانا ہے۔ یہ الیکٹرک کار سب سے پہلے رواں سال نومبر میں جاپان کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:ٹویوٹا کے نئے ماڈل کی رونمائی، فیچرز اور قیمت سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

جاپان میں ‘کی کارز’ (چھوٹی، کم وزن اور مخصوص سائز کی گاڑیاں) شہری سڑکوں اور روزمرہ کی نقل و حمل کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہیں۔

جیسے جیسے عالمی آٹو انڈسٹری الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل ہو رہی ہے، جاپانی مارکیٹ میں بھی نسان اور مٹسوبشی جیسی کمپنیوں نے اپنی الیکٹرک کی کاریں متعارف کروائی ہیں۔

سوزوکی، جو طویل عرصے سے سستی اور پائیدار چھوٹی گاڑیوں کا حکمران رہا ہے، کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے اس میدان میں داخل ہونا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ وہ اپنی مارکیٹ پوزیشن کو برقرار رکھ سکے۔

سوزوکی کی ‘ای سکائی’ برقی گاڑیوں کی صنعت میں ایک اہم اور عملی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں دنیا کی زیادہ تر الیکٹرک گاڑیاں بھاری بیٹریوں اور انتہائی بلند قیمتوں کے باعث عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، وہاں 310 کلومیٹر کی رینج اور 26 کلوواٹ گھنٹہ کی بیٹری والی سستی گاڑی لانا سوزوکی کا ایک بہترین فیصلہ ہے۔

 12 کلومیٹر فی کلوواٹ گھنٹہ کی کارکردگی بتاتی ہے کہ سوزوکی نے ٹیکنالوجی اور کم وزن کا مثالی توازن حاصل کر لیا ہے۔ اگر کمپنی اس کی قیمت کو واقعی مناسب رکھنے میں کامیاب رہتی ہے اور اسے جاپان سے باہر بھی برآمد کرتی ہے، تو یہ گاڑی روزمرہ سفر کرنے والے صارفین کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

Related Articles