سرحد یونیورسٹی ہراسگی معاملہ، سوشل میڈیا پر فوجی افسر کی حمایت میں آوازیں بلند، طلبہ کے رویے کیخلاف شدید ردعمل

سرحد یونیورسٹی ہراسگی معاملہ، سوشل میڈیا پر فوجی افسر کی حمایت میں آوازیں بلند، طلبہ کے رویے کیخلاف شدید ردعمل

سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے فوجی افسر کے حق میں آوازیں بلند ہوگئی ہیں، صارفین نے واقعے میں بدسلوکی اور ہنگامہ آرائی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے احتجاج کے نام پر حدود سے تجاوز قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی حاضر سروس افسر کو اس کی اہلیہ کے ہمراہ یونیورسٹی کے احاطے میں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، وردی کھینچی گئی یا تشدد کی کوشش کی گئی تو اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

افسر کے حق میں صارفین متحد

ایک صارف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ فوجی ہونا باعثِ فخر ہے اور احتجاج کرنے والوں کو احتجاج کے طریقہ کار اور حدود کا پابند بنانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ بے قابو ہجوم لوگوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ اگر فوج نے واقعے کے بعد افسر کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے تو ایک خاتون سے بدتمیزی اور تعلیمی ادارے میں ہنگامہ آرائی کرنے والے طلبہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

وردی کھینچنے اور تشدد کی کوشش

سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کہا گیا کہ ایک فوجی افسر اپنی اہلیہ کے ہمراہ یونیورسٹی آیا تھا جہاں احتجاج کرنے والے افراد نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی، وردی کھینچی اور تشدد کی کوشش کی۔

پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک شخص نے سبز پائپ کے ذریعے افسر پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر افسر نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی۔

کئی صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ واقعے کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرکے فوج مخالف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،بعض پوسٹس میں پی ٹی آئی سے کہا گیا کہ وہ واقعے کو اپنے سیاسی مؤقف کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

طلبہ کے رویے پر سخت تنقید

ایک صارف نے احتجاج میں شریک نوجوانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپنے والد کی عمر کے شخص کا گریبان پکڑنا کسی صورت قابل قبول نہیں،ایک اور صارف نے فوجی افسر کو بہادر قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔

اصل حقائق تحقیقات سے سامنے آئیں گے

واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے دعوے اور ویڈیوز گردش کررہی ہیں بعض صارفین ایک ویڈیو کو اصل واقعہ‘‘ جبکہ دوسری کوپروپیگنڈاقرار دے رہے ہیں۔

editor

Related Articles