خیبر پختونخوا حکومت کی گرفت کمزور، لکی مروت اور بنوں میں ’پولیس امن کمیٹی‘ کے خلاف جرائم اور غنڈہ گردی کے سنگین الزامات سامنے آگئے

خیبر پختونخوا حکومت کی گرفت کمزور، لکی مروت اور بنوں میں ’پولیس امن کمیٹی‘ کے خلاف جرائم اور غنڈہ گردی کے سنگین الزامات سامنے آگئے

خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور بنوں میں خود ساختہ ‘پولیس امن کمیٹی’ کے خلاف بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور قتل جیسے سنگین الزامات پر عوامی و سماجی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی حلقوں کے مطابق برطرف اہلکاروں پر مشتمل یہ غیر قانونی گروہ متوازی نظام چلا کر ریاستی رٹ کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جبکہ کمیٹی نے تمام الزامات کو من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

حالیہ دنوں اگست 2026 میں اس کمیٹی کے خلاف عوامی غصہ اس وقت شدید ہوا جب بنوں کے رہائشی قاری راشد کے مبینہ اغوا اور قتل کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اندرونی احتساب کمیٹی کا بڑا اقدام، خیبرپختونخوا میں کرپشن کیخلاف شکایات کیلئے 4 علاقائی کمیٹیاں قائم

لواحقین کے مطابق قاری راشد کو جولائی 2026 میں کچہری کے سامنے سے مبینہ طور پر امن کمیٹی کے کارندوں نے اغوا کیا اور لکی مروت منتقل کر کے مخالف فریق کی ایما پر قتل کر دیا۔

مقتول کے گھر والوں نے لاش بنوں پریس کلب کے سامنے سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

معطل اہلکاروں کا نیٹ ورک اور پولیس لائنز میں متنازع محفل

مقامی صحافیوں اور سماجی رپورٹس کے مطابق اس کمیٹی کی باگ ڈور ایک معطل کانسٹیبل خالد خان کے ہاتھ میں ہے اور اس گروہ میں تقریباً 82 ایسے سابق پولیس اہلکار شامل ہیں جنہیں بدعنوانی، ڈسپلن کی ورزی اور دیگر سنگین الزامات پر نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر لکی مروت پولیس لائنز کے اندر اس کمیٹی کی جانب سے ایک نجی محفل اور مجرے کے انعقاد کی ویڈیوز وائرل ہونے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پھیلی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند ہزار روپے تنخواہ والے معطل ملازمین کے پاس ایسی فضول خرچیوں اور لاکھوں روپے اڑانے کے لیے رقم کہاں سے آ رہی ہے؟

غیر قانونی چیک پوسٹیں، بھتہ خوری اور ریاستی اداروں سے تصادم

مقامی سماجی رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ غیر قانونی گروہ میر عالمی، انگارہ تنگ اور قبول خیل جیسی جگہوں پر پولیس کی غیر فعال یا خود ساختہ پوسٹوں پر کھڑا ہو کر عام شہریوں سے بھتہ وصول کر رہا ہے۔

ان پر نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کی اسمگلنگ اور ڈارک فنانسنگ کا بھی الزام ہے، جو ملک میں امن و امان کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

یاد رہے کہ شانگلہ میں چینی باشندوں پر حملے میں بھی ایسی ہی این سی پی گاڑی استعمال ہوئی تھی۔ مزید برآں، سرائے نورنگ کے علاقے میں پاک فوج کے قائم کردہ فری میڈیکل کیمپ میں اس کمیٹی کی جانب سے مبینہ رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو بھی ‘عوام دشمن’ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس تمام صورتحال کا پس منظر خیبر پختونخوا حکومت کی بنوں اور لکی مروت کے علاقوں پر کمزور انتظام اور صوبائی پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائیوں سے جڑا ہے۔

آئی جی پی اختر حیات خان کے دورِ حکومت میں محکمہ پولیس کے اندر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کر کے جن اہلکاروں کو بدعنوانی اور دہشتگرد گروہوں کی سہولت کاری کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:حکومت اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو، بجٹ کی منظوری کے لیے گرین سگنل

انہوں نے بعد میں کسی قانونی چھتری کے بغیر خود کو ‘امن کمیٹی’ کی شکل میں منظم کر لیا۔ سیکیورٹی رپورٹس بتاتی ہیں کہ قانونی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے یہ گروہ آہستہ آہستہ اپنے ذاتی اور غیر قانونی مقاصد کے لیے کام کرنے لگا۔

واضح رہے کہ اگر اس تمام صورتحال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسی بھی ریاست میں غیر قانونی یا ‘سیلف اسٹائلڈ’ سیکیورٹی گروہوں کی موجودگی آخر کار قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر ایسے گروہ مقامی سطح پر معاون سمجھے جاتے ہیں، لیکن ادارہ جاتی دیکھ بھال اور قانونی احتساب نہ ہونے کی وجہ سے یہ جلد ہی بھتہ خوری اور متوازی عدالتی نظام میں بدل جاتے ہیں۔

بنوں اور لکی مروت میں پنپتا ہوا یہ تنازع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور اعلیٰ سیکیورٹی ادارے فوری مداخلت کریں، غیر قانونی چیک پوسٹیں ختم کرائیں اور تمام معطل و برطرف اہلکاروں کو آئین و قانون کے دائرے میں لا کر شہریوں کے خدشات کا خاتمہ کریں۔

Related Articles