کے الیکٹرک نے شہر میں بجلی کی فراہمی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے 70 فیصد فیڈرز پر بجلی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ باقی 30 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے تناسب سے لوڈشیڈنگ کا شیڈول نافذ کیا گیا ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق شیڈول کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جہاں صارفین اپنے متعلقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے اوقات اور لوڈشیڈنگ سے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ نارتھ ناظم آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اورنگی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے نادہندگان نے بھی شرکت کی۔ کمپنی کے مطابق نیو میانوالی کالونی۔ مجاہد کالونی۔ پٹھان کالونی۔ غریب آباد۔ بجلی نگر۔ ایم پی آر کالونی۔ خیبر کالونی۔ مومن آباد۔ قصبہ کالونی۔ باوانی بالی اور کٹی پہاڑی سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی کا مجموعی حجم 17 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔
کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کالونی۔ مجاہد کالونی۔ پٹھان کالونی اور میٹروویل کے صارفین پر بجلی کے بلوں کی مد میں تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ خیبر کالونی کے ذمے 44 کروڑ روپے جبکہ لیبر آباد۔ اگھور کالونی اور شیر خان آباد کے صارفین پر 34 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات ہیں۔
اسی طرح بجلی نگر اور مجاہد کالونی کے ذمے 21 کروڑ روپے جبکہ عبدالرحمٰن۔ ایم پی آر کالونی اور الہ آباد میں بجلی کے واجبات 28 کروڑ روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ نورانی محلہ۔ فقیر۔ ضیاء اور بسم اللہ کالونی کے صارفین پر بھی 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم واجب الادا ہے۔
ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک نے بجلی چوری کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران متعلقہ علاقوں میں 100 سے زائد کارروائیوں کے دوران تقریباً 4 ہزار کلوگرام سے زیادہ غیر قانونی کنڈے ہٹائے گئے۔ کمپنی کے مطابق صارفین کو واجبات کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف علاقوں میں 590 سے زائد سہولت کیمپس منعقد کیے گئے۔
کے الیکٹرک نے بتایا کہ ڈالمیا اور ملحقہ علاقوں میں احتجاج کرنے والے نادہندگان پر تقریباً 64 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات ہیں جبکہ ان علاقوں میں بجلی کے نقصانات کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔
کمپنی کے مطابق پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث واجبات 2 کروڑ 75 لاکھ روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 سے منسلک فیڈر سے سالانہ تقریباً 30 لاکھ یونٹس بجلی چوری کی جاتی ہے۔
کے الیکٹرک نے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی اور بجلی چوری سے مکمل اجتناب لوڈشیڈنگ میں کمی یا اس کے مکمل خاتمے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی شرح زیادہ ہو وہاں بجلی کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔
کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بجلی ایک ایسی سہولت ہے جس کی مسلسل فراہمی کے لیے صارفین کی جانب سے بلوں کی بروقت ادائیگی ضروری ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ مفت بجلی کی فراہمی ممکن نہیں اور بجلی کی چوری کے خاتمے کے ساتھ واجبات کی ادائیگی سے ہی بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔