انٹرنیٹ صارفین کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ (QIE) میں ٹیلی کام کیبلز بچھانے اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق مختلف چارجز میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کے انفرااسٹرکچر اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے مستقبل میں انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کام سروسز کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکسیس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن (PTAPA) نے نظرثانی شدہ چارجز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب انتظامیہ اور وفاقی حکومت سے نئے نرخوں کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے عائد کیے جانے والے رائٹ آف وے (ROW) چارجز وفاقی حکومت کی منظور شدہ پالیسی کے مطابق ہونے چاہئیں تاکہ ٹیلی کام نیٹ ورک کی توسیع، نئی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی متاثر نہ ہو۔
فضائی کیبلز کا کرایہ 6 گنا بڑھ گیا
قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے نرخوں کے مطابق فضائی ٹیلی کام کیبلز کا سالانہ کرایہ 50 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی میٹر کردیا گیا ہے۔ اس طرح فضائی کیبلز کے سالانہ کرائے میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ٹیلی کام آپریٹرز کے مطابق اس اضافے سے صنعتی علاقے میں موجود نیٹ ورک کی دیکھ بھال اور انفرااسٹرکچر کے اخراجات نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔
زیرِ زمین کیبلز کے چارجز بھی بڑھ گئے
نئے نرخوں کے تحت زیرِ زمین ٹیلی کام کیبلز کے لیے ایک مرتبہ ادا کی جانے والی رائٹ آف وے فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ یہ فیس 300 روپے سے بڑھا کر 1,000 روپے فی میٹر کردی گئی ہے، یعنی اس چارج میں تقریباً 233 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ زیرِ زمین کیبلز کا سالانہ کرایہ بھی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی میٹر کردیا گیا ہے، جس سے اس مد میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر سے متعلق سپرویژن فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ زیرِ زمین کیبلز کے لیے ایک مرتبہ ادا کیے جانے والے سپرویژن چارجز 80 روپے سے بڑھا کر 250 روپے فی میٹر کردیے گئے ہیں، جو تقریباً 212.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
PTAPA کے مطابق مختلف مدوں میں چارجز بڑھنے سے ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے نئی کیبلز بچھانا، موجودہ انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال اور نیٹ ورک کو توسیع دینا مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عوامی اداروں اور سرکاری اتھارٹیز کی جانب سے عائد کیے جانے والے رائٹ آف وے چارجز No-Profit-No-Loss اصول کے تحت مقرر کیے جانے چاہئیں۔
PTAPA کے مطابق ROW چارجز کا بنیادی مقصد متعلقہ سروس کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں سرکاری یا عوامی اداروں کے لیے تجارتی آمدنی کا ذریعہ بنایا جائے۔
بجلی کے کھمبوں کے اضافی چارجز پر بھی اعتراض
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکسیس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کھمبوں کے استعمال سے متعلق اضافی چارجز پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق جو ٹیلی کام آپریٹرز پہلے ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کھمبوں کے استعمال کے لیے منظور شدہ ٹیرف ادا کررہے ہیں، ان پر مزید اجازت یا این او سی چارجز عائد نہیں کیے جانے چاہئیں۔
PTAPA کا مؤقف ہے کہ پہلے سے منظور شدہ ٹیرف کی ادائیگی کے باوجود اضافی اجازت یا این او سی فیس عائد کرنے سے ٹیلی کام کمپنیوں کے اخراجات میں غیر ضروری اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیٹ ورک توسیع میں رکاوٹ کا خدشہ
ایسوسی ایشن نے نئی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب کے لیے درکار اجازتوں کے معاملے میں بھی حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
PTAPA کے مطابق بعض معاملات میں نئی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر بچھانے کے لیے درکار اجازتیں روکے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے نیٹ ورک کی توسیع کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر صنعتی علاقوں میں نئی کیبلز بچھانے اور نیٹ ورک کو وسعت دینے کے عمل میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو وہاں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو انٹرنیٹ اور دیگر ضروری مواصلاتی خدمات کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
ٹیلی کام چارجز میں اضافے کے بعد عام صارفین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے نرخوں کا اثر انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔
فی الحال انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتوں میں فوری اضافے کا کوئی حتمی اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم اگر نئے انفرااسٹرکچر چارجز برقرار رہتے ہیں تو ٹیلی کام کمپنیوں کے آپریشنل اور نیٹ ورک توسیع سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورت میں کمپنیوں پر اضافی مالی دباؤ پڑنے کے باعث مستقبل میں انٹرنیٹ، براڈ بینڈ اور دیگر ٹیلی کام سروسز کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی موجودہ صورتحال کو فوری طور پر انٹرنیٹ پیکیجز مہنگے ہونے کے بجائے مستقبل میں قیمتوں پر ممکنہ دباؤ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حتمی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے چارجز برقرار رہتے ہیں یا حکام نظرثانی کے بعد انہیں کم کرتے ہیں۔