میزائل تیاری میں اے آئی کا استعمال، حوثیوں سے متعلق بڑا انکشاف

میزائل تیاری میں اے آئی کا استعمال، حوثیوں سے متعلق بڑا انکشاف

یمنی حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔

معروف امریکی اے آئی کمپنی انتھروپک نے اپنی تازہ انٹیلی جنس تھریٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی یمن میں موجود ایک عسکری گروپ نے ہتھیاروں کی تیاری کے دوران کمپنی کے اے آئی ماڈل کلاڈ سے مدد لینے کی کوشش کی۔

انتھروپک نے رپورٹ میں براہ راست حوثیوں کا نام نہیں لیا، تاہم شمالی یمن میں سرگرم ایک ایسے گروپ کا ذکر کیا ہے جو ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تین مختلف پروگرام چلا رہا تھا۔ شمالی یمن کا بیشتر علاقہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر کنٹرول ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشتری کے سامنے زمین کتنی چھوٹی ہے؟ حیران کن حقیقت سامنے آگئی

میزائل سافٹ ویئر کیلئے اے آئی کا استعمال

میڈیا رپورٹ کے مطابق مذکورہ گروپ نے ملٹی اسٹیج بیلسٹک میزائل، مختلف اقسام کے میزائل اور گائیڈڈ راکٹ تیار کرنے کی کوشش کی۔ انتھروپک کا کہنا ہے کہ گروپ نے گائیڈنس، کنٹرول اور نیویگیشن سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے روایتی سافٹ ویئر انجینئرز کے بجائے کلاڈ سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے آئی کو اوپن سورس آٹو پائلٹ کو ایک فون کلاس فلائٹ کمپیوٹر سے منسلک کرنے، کنٹرول سیٹنگز بہتر بنانے اور پرواز کی سیمولیشن چلانے جیسے کاموں میں استعمال کیا گیا۔

اے آئی نے کئی درخواستیں بلاک کردیں

انتھروپک کے مطابق کمپنی کے حفاظتی نظام نے اس گروپ کی متعدد درخواستوں کو روک دیا تھا، تاہم متعلقہ افراد نے اپنے اصل مقاصد چھپانے کیلئے مختلف طریقے اختیار کیے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو کئی مختلف سیشنز میں تقسیم کیا تاکہ کسی ایک گفتگو سے ان کے مکمل ارادوں کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔ انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ گروپ مکمل طور پر فعال ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا، تاہم ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجربہ ضرور کیا گیا۔

راکٹ تجربہ ناکام، جواب کیلئے پھر اے آئی سے رجوع

رپورٹ کے مطابق راکٹ کا تجربہ بظاہر ناکام رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند گھنٹوں بعد متعلقہ افراد دوبارہ کلاڈ پر واپس آئے اور اے آئی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ راکٹ کا تجربہ کیوں ناکام ہوا۔ انتھروپک نے ان اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والی معلومات متعلقہ سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ بھی شیئر کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے کرپٹو پالیسی بدل دی،70 عالمی ایکسچینجز لائسنس کی خواہاں

اے آئی کے غلط استعمال کا بڑھتا خطرہ

انتھروپک کی رپورٹ میں صرف میزائل پروگرام کا ذکر نہیں بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال کے دیگر خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض عناصر نے حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق تحقیق کیلئے بھی کلاڈ کے استعمال کی کوشش کی۔

میڈیا رپورٹ میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ مذکورہ گروپ نے مبینہ طور پر ایسا آف لائن سیمولیشن ٹول کٹ بھی تیار کرلیا ہے جو کلاڈ یا دیگر انجینئرنگ پلیٹ فارمز پر انحصار نہیں کرتا۔

یہ معاملہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز میں حفاظتی رکاوٹیں موجود ہونے کے باوجود ایسے عناصر ان ٹیکنالوجیز کو ہتھیاروں کی تیاری اور عسکری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے نئے راستے تلاش کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles