انگلینڈ سے شکست کے بعد پی سی بی کا کھلاڑیوں کی انکوائری کا اعلان

انگلینڈ سے شکست کے بعد پی سی بی کا کھلاڑیوں کی انکوائری کا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں مسلسل شکستوں کے بعد میڈیا میں سامنے آنے والی نظم و ضبط اور رویوں سے متعلق رپورٹس پر اندرونی ڈسپلنری انکوائری شروع کر دی ہے۔

پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر کے مطابق یہ تمام کارروائی بورڈ کے قواعد و ضوابط کے تحت کی جا رہی ہے تاکہ تمام متعلقہ افراد کا جائزہ شفاف انداز میں لیا جا سکے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈائریکٹر عامر میر نے پیر کو ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ بورڈ میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے نظم و ضبط اور قواعد سے متعلق امور کا اندرونی جائزہ لے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عاقب جاوید کی پی سی بی میں کارکردگی ؟ سابق ٹیسٹ کرکٹر زکی جانب سے کڑی تنقید

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی ایسے حساس معاملات کو اپنے طے شدہ معیاری عمل کے مطابق دیکھتا ہے اور یہ جائزہ بورڈ کی ہدایات کے تحت لیا جا رہا ہے تاکہ تمام متعلقہ کرکٹرز کی جانب سے پیش کیے جانے والے موکل کا پورا خیال رکھا جا سکے۔

موبائل فونز سے ڈیٹا حاصل کرنے کے الزامات

پی سی بی کی جانب سے یہ اقدام ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 194 رنز کی بھاری شکست کے بعد قومی ٹیم کے سیکیورٹی آفیسر نے سابق ٹیسٹ کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز تحویل میں لیے تھے۔

رپورٹس میں الزام لگایا گیا کہ لندن میں قیام کے دوران ان کھلاڑیوں کی سرگرمیوں اور رابطوں کی جانچ کے لیے فونز کا ڈیٹا دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور چند گھنٹوں بعد فونز واپس کر دیے گئے۔

تاہم پی سی بی نے فونز تحویل میں لینے یا ان سے ڈیٹا حاصل کرنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر نے غیر تصدیق شدہ خبروں کو سچ ماننے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر بالخصوص معاندانہ بیرونی ذرائع سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا جائے۔

مزید پڑھیں:شان مسعود کو پی سی بی میں عہدہ ملنے پر شاہد آفریدی کا ردعمل سامنے آ گیا

انہوں نے مزید کوئی تفصیل بتانے سے معذرت کی اور کہا کہ کارروائی جاری رہنے تک بورڈ مزید تبصرہ نہیں کرے گا۔

انگلینڈ کے خلاف ناکامی اور اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان ٹیسٹ ٹیم انگلینڈ کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے 2 بھاری شکستوں کا شکار ہو کر شدید بحران سے گزر رہی ہے۔

اس ناقص کارکردگی کے نتیجے میں بدھ سے ایج بیسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے ٹیم میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔

انگلینڈ نے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ہیڈنگلے کے مقام پر پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جس کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز سے کامیابی حاصل کر کے 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی ہے۔

ان شکستوں کے بعد پی سی بی نے امام الحق اور محمد رضوان سمیت 7 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ ریڈ بال کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو ہٹا کر مائیک ہیسن کو عبوری طور پر نیا ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے۔

امام الحق کی انجری اور عاقب جاوید کا انکوائری کا مطالبہ

لارڈز ٹیسٹ کے دوران اوپنر امام الحق کی ٹیم سے عدم موجودگی بھی شدید تنقید کا مرکز بنی رہی۔ امام الحق میچ کے پہلے دن فیلڈنگ کے دوران پنڈلی کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے اور اس کے بعد وہ دونوں اننگز میں بلے بازی کے لیے میدان میں نہ آ سکے، جبکہ قومی ٹیم دونوں اننگز میں بالترتیب 110 اور 194 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سینئر بیورو کریٹ کو پی سی بی میں چیف آپریٹنگ آفیسر لگانے کا فیصلہ

اس معاملے پر قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن اور پی سی بی کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے باقاعدہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم پی سی بی کے حالیہ بیان میں صریحاً امام الحق یا محمد رضوان کا نام لیا گیا ہے اور نہ ہی تحقیقات کی نوعیت بتائی گئی ہے، بلکہ عوامی حلقوں کو صرف پی سی بی کے سرکاری اعلانات پر ہی اتکا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related Articles