لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی گاڑیوں کے شیشے اور سائیڈ ویو مررز توڑنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد سیاسی مخالفت کے نام پر توڑ پھوڑ اور انتہا پسندانہ رویوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ واقعے میں ملوث افراد نے نقاب پہن رکھے تھے، جس کے باعث ان کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
پولیس کے مطابق واقعہ ہفتے کی شام پیش آیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے، جس میں دو افراد کو گاڑیوں کے سائیڈ ویو مررز توڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس تاحال ملزمان کی شناخت اور واقعے میں ان کے کردار کا تعین نہیں کر سکی۔
واقعے کے بعد گاڑیوں کی مرمت کرا لی گئی ہے اور نواز شریف نے آج انہی گاڑیوں میں سفر بھی کیا۔ تاہم، اس واقعے نے بیرون ملک پاکستانی سیاسی شخصیات کے خلاف پرتشدد یا تخریبی کارروائیوں کے رجحان پر بحث چھیڑ دی ہے۔
سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اختلافِ رائے اور سیاسی احتجاج کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور توڑ پھوڑ جیسے اقدامات کس طرح سیاسی ماحول کو مزید تلخ بناتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاست اور بیرون ملک اس کے حامیوں کے بعض احتجاجی رویوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں، دھمکیوں یا املاک کو نقصان پہنچانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
تاہم، لندن میں گاڑیوں کو نقصان پہنچانے والے افراد کی شناخت یا ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق تاحال ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے واقعے کو پی ٹی آئی سے منسوب کرنے کے لیے ٹھوس شواہد اور پولیس کی تحقیقات اہم ہوں گی۔
ایون فیلڈ آمد پر نواز شریف نے پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کی حالتِ زار کے حوالے سے مریم نواز پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔ اپنی طبیعت سے متعلق سوال پر نواز شریف نے اللہ کا شکر ادا کیا، جبکہ ان کے معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
لندن واقعے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو پُرامن اور قانونی دائرے میں رکھنے کے لیے سیاسی قیادت اور کارکنوں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ اس کارروائی کے پیچھے کون تھا اور اس کا محرک کیا تھا۔
