لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر اربوں روپے کی کرپشن کی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 190 ملین ریفرنس میں عمران خان کو سزا کے بعد پی ٹی آئی رہنما ماتم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی ایجنسی نے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا اور ان کے پیسے واپس بھیجنے کی پیشکش کی تھی، لیکن یہ رقم حکومتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ڈال دی گئی، جس کے بعد پیسوں کی بندر بانٹ کی گئی۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کیس کے دوران ملزمان کو 15 مرتبہ بیان ریکارڈ کرنے کا موقع دیا گیا، مگر تاخیری حربے اپنائے گئے۔ علیمہ خان نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ کیس کا فیصلہ جلد آئے۔ اس کیس میں 35 سماعتوں کے بعد جرح مکمل ہوئی، جبکہ شہزاد اکبر کو مرکزی کردار قرار دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہزاد اکبر کو باہر جانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمر ایوب کرپشن کے سوال کا رخ حسن نواز کی طرف موڑ دیتے ہیں، حالانکہ این سی اے نے حسن اور حسین نواز کو کلیئر قرار دیا تھا۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وہ افراد قابل مذمت ہیں جو عمران خان کو سیاست میں لائے اور انہیں “صادق و امین” جیسے پاک القاب دیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حامی اعلیٰ عدالتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں اور دعوے کر رہے ہیں کہ عدالتوں سے ریلیف ملے گا، جو قابل تشویش ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے ذریعے کروڑوں روپے ضائع کیے گئے اور انہیں کلین چٹ دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے کسی ٹرسٹ کے ٹرسٹی کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک بھر میں یونیورسٹیاں بنوا سکتے تھے، مگر صرف القادر یونیورسٹی پر توجہ دے کر ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی عمران خان کو کرپٹ قرار دے رہا ہے اور یہ سب مکافات عمل کا حصہ ہے جو اب ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔