اینڈرائیڈ 16 میں ایک نئی سیکیورٹی خامی سامنے آئی ہے، جس کے باعث بعض مخصوص حالات میں فون کی لاک اسکرین کا حفاظتی نظام بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ گوگل نے اس مسئلے سے آگاہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خامی کو دور کرنے کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹ تیار کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خامی جیمینائی کے لاک اسکرین فیچر سے متعلق ہے۔ اگر صارف نے پہلے سے میسجنگ یا واٹس ایپ جیسی ایپس تک جیمینائی کی رسائی محدود کر رکھی ہو تو عام حالات میں ان ایپس کو استعمال کرنے کے لیے فون پِن یا دیگر تصدیقی طریقہ طلب کرتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ایک مخصوص طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے، جس میں “Add Attachment” اور “Continue” بٹن بیک وقت دبائے جاتے ہیں، بعض صورتوں میں پِن کی تصدیق بائی پاس ہو جاتی ہے، جس سے لاک اسکرین کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس خامی کے ذریعے حملہ آور نہ صرف پیغامات بھیج سکتا ہے بلکہ ویڈیو مظاہرے میں یہ بھی دکھایا گیا کہ جیمینائی کے لیے پہلے سے بند کی گئی واٹس ایپ رسائی دوبارہ فعال کی جا سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گوگل کو اس سیکیورٹی خامی کا علم مئی سے ہے۔ ابتدائی اندازوں کے برعکس یہ مسئلہ صرف گوگل پکسل فونز تک محدود نہیں بلکہ دیگر اینڈرائیڈ ڈیوائسز بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ کون سے موبائل برانڈز یا اینڈرائیڈ 16 کے کون سے ورژنز اس خطرے کی زد میں ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس قسم کے مسائل کو “آتھنٹیکیشن بائی پاس” یا “لاک اسکرین بائی پاس” کہا جاتا ہے، جس میں تصدیقی عمل کو مخصوص تکنیکی طریقے سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نوعیت کی سیکیورٹی خامیاں مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، تاہم صارفین کو چاہیے کہ جیسے ہی گوگل کی جانب سے سرکاری سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری ہو، اپنے اسمارٹ فون کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں تاکہ ممکنہ سائبر خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔