وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نئے پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پندرہ روزہ کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی۔
نئی پالیسی کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی ایکس ڈپو قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی، تاہم ہفتہ اور اتوار کے روز قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور موجودہ نرخ برقرار رہیں گے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سات ورکنگ دنوں کی اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر درآمدی کارگو دستیاب ہوگا تو قیمت کا تعین وزن شدہ اوسط درآمدی قیمت کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ درآمد نہ ہونے کی صورت میں رواں سال کے آغاز سے اب تک کی اوسط قیمت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نئے طریقہ کار کے تحت روزانہ قیمتوں کے اجرا کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم اوگرا روزانہ جاری کی جانے والی قیمتوں سے متعلق معلومات ڈائریکٹر جنرل آئل کو فراہم کرے گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی مقررہ قانونی حد سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ لیوی کی شرح میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل وزارت خزانہ کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نیا پیٹرولیم پرائسنگ نظام اوگرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت نافذ کیا جائے گا، جبکہ وزارت خزانہ ہر مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی شرح فراہم کرے گی۔
ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے اس نئے نظام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر مقامی مارکیٹ تک زیادہ تیزی سے منتقل کرنا اور قیمتوں کے تعین کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام، ڈیلرز کو درپیش مسائل اور ریگولیٹری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ چیلنجز کے باوجود ایندھن کی سپلائی مؤثر انداز میں جاری رہی۔
اس موقع پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نیا یومیہ نظام سات روزہ رولنگ ایوریج پر مبنی ہوگا، جبکہ پہلے رائج ہفتہ وار قیمتوں کا نظام بھی سات روزہ اوسط قیمت کے مطابق ہی چل رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس سے شفافیت اور مسابقت کو فروغ ملے گا۔
ملاقات کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز نے مطالبہ کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ڈیلرز کے درمیان قواعد و ضوابط کی تیاری کے عمل میں ڈیلرز کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ اس پر وزیر پیٹرولیم نے یقین دہانی کرائی کہ نئے ضوابط مرتب کرتے وقت ڈیلرز کی تجاویز اور آراء کو شامل کیا جائے گا۔
وفد نے ڈیلرز کے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ بھی پیش کیا، جس پر وفاقی وزیر نے مثبت انداز میں غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان مسلسل مشاورت کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے ایندھن کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے