خیبرپختونخوا میں مفت سولر سسٹم دینے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔ منصوبے کو شروع کئے آدھا سال گزرنے کے باوجود تاحال مفت سولر سسٹم منصوبے کا پراسیس مکمل نہیں ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق مفت سولر سسٹم دینے میں مزید کئی ماہ کا وقت لگنے کا خدشہ ہے کیونکہ اس وقت مختلف مسائل سامنے آرہے ہے جس سے مفت سولر سسٹم دینے کا منصوبہ سست روی کا شکار ہے۔ ذرائع محکمہ توانائی کے مطابق منصوبے کے لیے اب تک 25 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں لیکن ان درخواستوں میں 1 لاکھ سے زائد ایسی درخواستیں ملی ہیں جس میں ڈوپلیکیشن ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ہی نام اور دیگر بنیادی معلومات کے ساتھ درخواست جمع کی گئی ہیں جس کے باعث نہ صرف حکام کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ بدانتظامی کا بھی خدشہ ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع بالخصوص دور دراز اضلاع جیسے وزیرستان، خیبر، مہنمد، باجوڑ، کرم، اورکزئی میں ایک ہی نام سے کئی درخواستیں جمع کی گئی ہیں۔ اہل اور حق دار درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال کے لیے دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ دوبارہ تصدیق کے عمل کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگا۔
محکمہ توانائی خیبرپختونخوا ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اگست 2024 کو مفت سولر سسٹم دینے کا اعلان کیا تھا جس کو تقریباً 7 ماہ گزر گئے لیکن تاحال یہ منصوبہ شروع نہیں ہوسکا ہے اور اب یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ یاد رہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کے 1 لاکھ 30 ہزار خاندانوں کو مفت سولر سسٹم دینے کا اعلان گزشتہ سال 14 اگست 2024 کو کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے سولر سسٹم میں سولر پینلز، انورٹر، وائرنگ، پنکھے اوربلب دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں محکمہ توانائی حکام سے جب بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ مفت سولر سسٹم دینے کا عمل جون تک مکمل ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کی بنیادی قانونی تقاضے پوری کرنے میں وقت لگتا ہے اس لئے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔ حکام کا بتانا تھا کہ منصوبے کو شفاف بنانے کے لیے تصدیق کے عمل کو کافی سخت رکھا گیا ہے۔ چند اضلاع میں آگاہی نہ ہونے سے ایک ہی نام سے کئی درخواستیں موصول ہوئی ہے۔ جس کی نادرہ کی مدد سے تصدیق کی جارہی ہے۔