سینئر صحافی زاہد گشکوری نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا 12 اگست سے ٹرائل جاری ہے اور سننے میں آرہا ہےکہ اپریل کے مہینے میں ان کے حوالے سے فیصلہ آ جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمیدپر عائد الزامات اور چارج شیٹ کے حوالے سے تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں ، سینئر صحافی زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی کیس ہے اور اور غیر معمولی انداز میں اس کی سماعت طول اختیار کر گئی ہے۔ اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم ترین کیس کے حوالے سے فیصلہ کیا آتا ہے کیونکہ اس کیس کے حوالے سے بہت سے لوگوں کے انٹرویوز بھی کیئے گئے ، شواہد حاصل کیے گئے۔
صحافی زاہد گشکوری نےکہا کہ جنرل فیض حمید ٹرائل کے حوالے سے بہت سے ملٹری افسران ، بیوروکریٹس، سیاسی قائدین اور اہم شخصیات کے بھی ٹرائل کے حوالے سے پوچھ گوچھ کی گئی ہے، ٹرائل کے حوالے سے زاہد گشکوری کا کہنا تھا کہ انکا ٹرائل بطور ڈی جی آ ئی ایس آئی اور بعد ازاں انکے کنڈکٹ کے حوالے سے تمام امور کو ٹرائل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انکی ریٹائرمنٹ کے بعد پوسٹ ریتائرمنٹ سیاسی مصروفیات کے حوالے سے امور اور عوامل کو ٹرائل کا حصہ بنایا گیا ہے، اس پیرائے میں انکے حوالے سے ممکنہ فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔
زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حوالے سے انکے تعلقات کیا رہے، ان تمام عوامل کے حوالے سے فیصلہ اپریل کے مہینے میں متوقع ہے جو ملکی سیاست کے مستقبل کے حوالے سے بہت کلیدی اور اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔